The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

تحریک انصاف کے عامرلیاقت ساتھی رکن قومی اسمبلی سے الجھ لڑے … پیپلزپارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل کی سپیکرکی جانب سرے عام سزائے موت کے سوال سے کنی کتراگئے

9

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 ستمبر ۔2020ء) حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے 2 ارکان قومی اسمبلی اجلاس کے دوران آپس میں الجھ پڑے. اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی اور اینکرپرسن ڈاکٹرعامر لیاقت نشست سے اٹھ کر ایم این اے عطا اللہ پر لپک پڑے انہوں نے الزام عائدکیا کہ عطا اللہ مجھے گالیاں دے رہا ہے اس موقع پر حکومتی ارکان نے دونوں کے درمیان بیچ بچاﺅ کرایا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے عامر لیاقت کو اپنی نشست پر جانے کی ہدایت کر دی.

(جاری ہے)

ایک حکومتی رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت نے انتہائی غلیظ گالیاں دیں ‘دونوں اراکین کے درمیان جھگڑاپارلیمنٹ لاجزمیں ہونے والی ایک ”پارٹی“کی وجہ سے ہوا ذرائع نے بتایا کہ اراکین کا گزشتہ رات بھی آپس میں جھگڑا ہوا تھا جب وہ ”مدہوشی“کی حالت میں تھے. اطلاعات کے مطابق اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے دونوں اراکین کو اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کو بھی صورت حال سے آگاہ کیا گیا ہے. قبل ازیں اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ موٹروے واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہوئی واقعے پر سب کے سر شرم سے جھک گئے شکر کی بات ہے کہ آج موٹروے واقعے کا مجرم گرفتار ہوگیا‘انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے زینب کیس میں ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا گیا تھا ہماری حکومت نے 1300 ا فرادکے ڈی این اے ٹیسٹ کیے تھے شہباز شریف نے کہا کہ ڈولفن پولیس فورس اور فرانزک لیب نوازشریف کے دور میں بنا فرانزک لیب دنیا کی سب سے بڑی دوسری لیب ہے. انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں پولیس ریفارمز کی گئیں پنجاب میں پولیس افسروں کی تعیناتیاں 95 فیصد میرٹ پر ہوتی تھیں‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کے بارے میں چھان بین کے لیے سپیکرپارلیمانی کمیٹی تشکیل دیںتا کہ معلوم کیا جاسکے کہ موٹروے پر تعیناتی میں تاخیر کی کیا وجہ تھی. قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ موٹر وے کے افسوسناک واقعہ پر پوراملک غمگین ہے افسوس ایوان میں مجرموں کو سزا دینے پر بحث نہیں ہورہی ہے‘وفاقی وزیرمراد سعید نے کہا کہ ایوان میں اس بات پر بحث نہیں ہورہی ہے کہ درندوں کو کیسے عبرت کا نشان بنایاجائے درندوں کو سزا دلوانے پر کوئی بحث نہیں ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ میں اس لیے ذمہ دار ہوں کیوں کہ میں اس ایوان کا حصہ ہوں تاہم یہ واقعہ موٹر وے پر نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ 130 پر کی گئی کال میں نے خود سنی 130 پر کال کی گئی تو اس میں نہیں کہا گیا کہ یہ ہماری حدود نہیں جن کی ذمہ داری تھی ان کے ساتھ رابطہ کرایا گیا تھا یہ واقعہ جہاں پر بھی ہوا میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں‘موٹروے واقعے کا میں ذمہ دار ہوں، ریاست ذمہ دار ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ موٹروے پرخاتون سے زیادتی اندوہناک واقعہ ہے‘ سی سی پی اولاہور کہتے ہیں کہ شام کے بعد پاکستان محفوظ جگہ نہیں ہے تو حکومت آرڈیننس جاری کردے کہ شام 6 بجے کے بعد خواتین باہر نہ نکلیں. اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے عبدالقادر پٹیل سے پوچھا کہ سرے عام پھانسی دینے پر آپ کیا کہتے ہیں؟ اس صورتحال میں سرعام پھانسی نہیں ہوگی تو معاملہ حل نہیں ہوگا جس پر پیپلزپارٹی کے رکن عبدالقادرپٹیل گڑبڑا گئے اور سپیکرکے سوال کا جواب دینے کی بجائے صرف اتنا کہہ کر بحث ختم کردی کہ قانون میں ہر جرم کی سزا موجود ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More