The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

تابکاری سے آلودہ پانی ٹھکانے لگانے کے تین آپشنز میں دشواریاں حائل ہیں۔جاپانی وزارت صنعت

13

اتوار اکتوبر
12:15

ٹوکیو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 18 اکتوبر2020ء) : جاپان کی وزارت صنعت کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ فٴْوکٴْوشیما دائی ایچی جوہری بجلی گھر میں ذخیرہ شدہ تابکاری سے آلودہ، صاف کردہ، پانی کو ٹھکانے لگانے کی تجویز کردہ تین آپشنز میں تکنیکی دشواریاں حائل ہیں۔جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت صنعت کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ فٴْوکٴْوشیما دائی ایچی جوہری بجلی گھر میں ذخیرہ شدہ تابکاری سے آلودہ پانی میں مارچ 2011 کے جوہری حادثے میں پگھلنے والے ایٹمی ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی اور بجلی گھروں کے نیچے زمین میں رِس جانے والا برساتی پانی بھی شامل ہے۔ بعد ازاں مذکورہ پانی سے زیادہ تر تابکار مواد صاف کیا جاتا ہے لیکن ٹریٹیم سمیت کچھ دیگر مادے موجود رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔وزارت نے موسم بہار سے، مقامی شہریوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ سماعتیں منعقد کی ہیں اورعوام کی آرا حاصل کی ہیں۔تین مجوزہ منصوبوں میں اس صاف شدہ تابکار پانی کو گارے میں حل کر کے اسے ٹھوس شکل میں لانا شامل ہے۔

تاہم وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مجموعی حجم میں اضافہ ہو گا اور اسے ذخیرہ کرنے کے مقام کا حصول مشکل ہو گا۔دوسرا آپشن، مذکورہ پانی کی بحری جہاز کے ذریعے دور افتادہ جزائر اور دیگر مقامات میں منتقلی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آپشن کے لیے درکار بڑی تنصیبات کی تیاری میں وقت لگے گا۔تیسرا طریقہ پانی کو ذخیرہ کر کے تلف کرنے کے لیے اسے کنٹینرز یا نکاسی آب کی نالیوں کے ذریعے منتقل کرنے کا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ? کار میں نگرانی کے مسائل ہیں۔وزارت کا مزید کہنا ہے کہ پانی کو سمندر میں چھوڑنا ایک قابل عمل طریقہ ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس فروری میں ایک ذیلی کمیٹی بھی یہی رائے قائم کر چکی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More