The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بھارت اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے بین الاقوامی فورمز پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے. شاہ محمودقریشی … شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کے سیاسی نقشہ پر بھارتی اعتراض … مزید

2

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 ستمبر ۔2020ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے بین الاقوامی فورمز پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے وزیر خارجہ کی یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک روز قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آن لائن اجلاس میں تقریر کے دوران پاکستان کا سیاسی نقشہ دکھائے جانے پر احتجاج کیا تھا تاہم فورم نے ان کے احتجاج کو مسترد کردیا تھا.

(جاری ہے)

معید یوسف کے دفتر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے پاکستان کے نئے سیاسی نقشہ کو مسترد کرنے اور اس پر باضابطہ اعتراض کو مسترد کردیا گیا اور نیا پاکستانی نقشہ معید یوسف کے پس پشت آویزاں رہا‘ رپورٹ کے مطابق آج جاری کردہ بیان میں وزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان کے سیاسی نقشہ پر بھارتی اعتراض کو مسترد کردیا گیا جس کی وجہ سے دہلی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا نہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے میزبان روس نے بھارت کے نقطہ نظر کو قبول نہیں کیا، بھارت نے پلیٹ فارم پر یہ مسئلہ اٹھا کر تنظیم کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس مسئلے کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں‘انہوں نے کہا کہ چین نے بھی لداخ میں ڈی فیکٹو بارڈر پر بات چیت کے ذریعے بار بار بھارت کے ساتھ معاملات حل کرنے کی پیش کش کی تھی مگر بھارت نے جارحانہ انداز اپنایا اور اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑا. انہوں نے کہا کہ چین نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے‘بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے واک آﺅٹ کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا اور کہا کہ پاکستان کے نمائندے نے جان بوجھ کر فرضی نقشہ پیش کیا‘وزارت کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر نے جان بوجھ کر ایک فرضی نقشہ پیش کیا جس کا پاکستان پروپیگنڈا کر رہا ہے، میزبان کی جانب سے اس کے خلاف مشورے کی توہین اور اس ملاقات کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی. ترجمان نے کہا کہ میزبان سے مشاورت کے بعد بھارت نے اس موقع پر احتجاج کے طور پر اجلاس چھوڑ دیا، جیسا کہ توقع کی جاسکتی تھی، اس کے بعد پاکستان نے اس ملاقات کے بارے میں ایک گمراہ کن نظریہ پیش کیا‘اس بیان کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ نقشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے لیے پاکستان کے عزم کی توثیق کرتا ہے. دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے این ایس اے کے اجلاس میں پاکستان کے سرکاری نقشے پر اعتراض کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی‘انہوں نے کہا کہ ہم فعال طور پر مثبت اور تعمیری کردار ادا کررہے ہیں اور ایس سی او چارٹر پر عمل پیرا ہیں تاکہ کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو ایس سی او کے ساتھ ہماری مصروفیت پر اثر انداز نہ ہونے دیں. بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کرنے کی پہلی سالگرہ سے ایک روز قبل، 4 اگست کو پاکستان نے خطے کی متنازع حیثیت کی نشاندہی کرنے والے ایک نئے سیاسی نقشے کی رونمائی کی تھی ایس سی او میٹنگ میں نئے نقشہ کی نمائش کے تنازع کا آغاز کانفرنس سے چند روز قبل ایک ٹیسٹ کال کے دوران ہوا تھا جب بھارت نے پس پشت آویزاں اس نقشے کو نوٹ کیا. بعد ازاں بھارت نے اس اجلاس کے میزبان روس کے سامنے اس حوالے سے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا جس پر ماسکو نے نئی دہلی کے تحفظات کو اسلام آباد تک پہنچادیا تھا تاہم معاون خصوصی معید یوسف کے مطابق دفتر خارجہ نے بھارتی موقف کو مسترد کردیا تھا اور نقشہ ہٹانے سے انکار کردیا تھا پاکستان کا موقف تھا بھارتی دعوے کے خلاف نقشہ بھارتی سرزمین کے کسی حصے کا دعوٰی نہیں کرتا اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں اور کشمیریوں کے جذبات کے مطابق تھا. قومی سلامتی ڈویژن (این ایس ڈی) نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو جموں وکشمیر کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کو بھارت کے حصے کے طور پر دعوی کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں سے جموں و کشمیر تنازع پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور یو این ایس سی کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے. بیان میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان کے موقف پر اتفاق کیا، اس کے بعد اجلاس کے دوران نقشہ معید یوسف کے پس پشت آویزاں رہا جس کی وجہ سے بھارتی نمائندے نے واک آﺅٹ کیا‘انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر بھارت کی جانب سے ایک اہم کثیرالجہتی فورم کو چھوٹی دو طرفہ بحث کے تحت بنانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور ایس سی او کے ممبر ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس کے دوران پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اور کشمیری عوام کی امنگوں پر روشنی ڈالی گئی.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More