The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کو مدنظر رکھ کر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پسماندہ صوبے کے طلبا کے لئے پرانی سکالرشپس اور تعلیمی پیکجز بحال کئے جائیں ، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن … مزید

6

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 16 ستمبر2020ء) بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کو مدنظر رکھ کر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پسماندہ صوبے کے طلبا کے لئے پرانی سکالرشپس اور تعلیمی پیکجز بحال کئے جائیں ، بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے احتجاج پر بیٹھے بلوچ طلبا کے ساتھ مذاکرات اور اس سلسلے میںکمیٹی کی تشکیل خوش آئند ہے تاہم اگر بلوچستان کے طلبا کے لئے اسکالرشپس بحال نہ کئے گئے تو ملکی سطح پر احتجاج شروع کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل چنگیز بلوچ ، جوائنٹ سیکرٹری جنید بلوچ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے طلبا کو پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں سکالرشپس دی گئی تھی جس سے کثیر تعداد میں یہاںکے طلبا مستفید ہورہے تھے مگر گزشتہ دنوں میں انتظامیہ نے بلوچستان اور فاٹا کے طلبا کے لئے اسکالرشپس ختم کرنے کا اعلان کردیا جسے ہم بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش سمجھتے ہیں بلوچستان جو پہلے سے تمام شعبوںمیںپسماندہ ہے وہاںکے طلبا کے تعلیم جیسے بنیادی حق پر اس طرح سے ضرب لگانا کسی صورت بھی درست نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ سکالرشپس کے خاتمے کے خلاف بلوچ طلبا نے بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی کے سامنے دھرنا شروع کیا اور ملتان کی شدید گرمی میں وہ اپنے تعلیم حق کے لئے سڑکوں پر بیٹھے ہیں اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی بنانا خوش آئند ہے ۔ انہوںنے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلی بلوچستان سمیت دیگر اعلی حکام سے اپیل کی کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے طلبا کے لئے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پرانی سکالرشپس اور تعلیمی پیکجز بحال کرائے جائیں ، انہوں نے کہاکہ مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر سطح پر احتجاج شروع کریں گے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More