The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلوچستان حکومت نے فنانس بل 2020منظور کر کے تاریخی اقدام کیا ہے ،آئندہ پی ایس ڈی پی میں کوئی بھی اسکیم بغیر پی ڈی ڈبلیو پی کے نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان … پالیسی کے تحت … مزید

2

وئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے فنانس بل 2020منظور کر کے تاریخی اقدام کیا ہے آئندہ پی ایس ڈی پی میں کوئی بھی اسکیم بغیر پی ڈی ڈبلیو پی کے نہیں ہوگی، پالیسی کے تحت سرد علاقوں کی ایلوکیشن اور اتھائزیشن دوسرے علاقوں کی نسبت دگنی رکھی ہے تا کہ سرد مہینوں میں اگر کام نہ بھی ہو تو ٹھیکیدار ڈبل کام کرچکاہو،ہم نے نہ ماضی میں کبھی کوئی کام منظوری کے بغیر کام کیاہے اور نہ ہی آئندہ کرینگے ۔ یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاکہ سریاب کے حلقوں سے اپوزیشن ارکان منتخب ہوئے ہیں لیکن حکومت نے ان حلقوں کو خصوصی توجہ دیکر ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے سڑکیں کسی پارٹی ،جماعت یا کارکن نہیں بلکہ عوام کی سہولت کیلئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں تمام کام طریقہ کار کے تحت کرنے کا قائل ہوںحکومت نے عدالت عالیہ کے احکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے طریقہ کار کو بہتر کیاہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے پہلی بار فنانس بل کی منظوری دی ہے آئندہ مالی سال پی ایس ڈی پی میں کوئی بھی اسکیم جس کی ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی نہیں ہوگی وہ پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنے گی ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میںزیارت،کان مہترزئی،پشین ،مسلم باغ، کوئٹہ ،سوراب،خضدار ،قلات اور مستونگ وہ علاقے ہیں جہاں سردی کے موسم میں تعمیرات کاکام نہیں ہوسکتا اگر دو سے تین ماہ ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی میں لگا لیتے ہیں تونومبر کامہینہ قریب آتاہے جس کے بعد سرد علاقوں میں تین سے چار ماہ تک کام نہیں ہو پاتے جبکہ مارچ کے بعد کام شروع ہوتے ہی مئی جون قریب آتے ہیں جس کی وجہ سے سرد علاقوں میں کئی کام رہ جاتے ہیں لیکن اس بار ہم نے نیا طریقہ کار اپناتے ہوئے سرد علاقوں میں اسکیمات کی ایلو کیشن اور اتھائزیشن دوسرے علاقوں کی نسبت دگنی رکھی ہے تاکہ ٹھیکیدار کو کام کیلئے زیادہ وقت مل سکے اور جلد سے جلد کام مکمل ہو اور پھر سرد مہینوں میں اگر کام نہ بھی ہو تو ٹھیکیدار ڈبل کام کرچکاہو، وزیراعلیٰ نے ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ ہم نے نہ ماضی میں کبھی کوئی کام منظوری کے بغیر کام کیاہے اور نہ ہی آئندہ کرینگے ،بغیر منظوری کے کوئی بھی اسکیم چاہے وہ جاری ہو یا نئی اس پر کام نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں حکومت نے 72ارب سے زائد خرچ کئے جبکہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اس معیار کو برقراررکھیں ۔

(جاری ہے)

قبل ازیں اجلاس میں ظہار خیال کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی اخترحسین لانگو نے کہاکہ پی ایس ڈی پی کاکیس عدالت میں زیر سماعت ہے عدالت نے اس حوالے سے تمام ٹینڈرز پر اسٹے جاری کیاگیاہے تاہم اس کے باوجود نصیرآباد،خاران ،کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز جاری ہورہے ہیںاور اخبارات میں ٹینڈرز مشتہر کئے جارہے ہیں جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے استدعا کی کہ عدالتی فیصلہ آنے تک ٹینڈرز کو روکنے کیلئے رولنگ دیں ۔احمد نواز بلوچ نے کہاکہ وی آئی پی موومنٹ کے باعث آج سریاب میں ٹریفک شدید متاثر رہی گنجان آبادی کے باعث لوگوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑا ،انہوں نے کہاکہ سریاب سے اپوزیشن کے تین اراکین منتخب ہوئے ہیں تاہم ہمیں وی آئی پیز کی آمد سے متعلق اطلاع نہیں دی جاتی بی این پی کے ملک نصیراحمد شاہوانی نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں بلڈوزرکے لاکھوں گھنٹے مختص ہونے پر ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ پابندی کے باوجود پی ایس ڈی پی میں بلڈوزر گھنٹے رکھے گئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اگر بلڈوزر کے گھنٹوں پر پابندی ہے تواس کو پی ایس ڈی پی میں کیوں شامل کیاگیا بی این پی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے سدرن علاقوں کیلئے پیکج زیر غور ہے 2009ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کیلئے پیکج کااعلان کیا تاہم اس ضمن میں مشاورت نہ ہونے سے بلوچستان پیکج کے مثبت اثرات سے محروم رہاہے مذکورہ پیکج میں عوام کے مسائل کو سامنے نہیں رکھا گیا انہوں نے کہاکہ سدرن علاقوں سے اراکین اسمبلی کو120ارب روپے کے پیکج کے حوالے سے اعتماد میں لیاجائے ،وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر اپوزیشن نمائندوں کو بلایاجاتا تو ہم ضروراپنی تجاویز پیش کرتے جو غلطیاں پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں ہوئی انہیں سرزد نہ کیاجائے ،سدرن علاقوں میں صحت ،تعلیم ،روزگار ،انفراسٹرکچر اور ترقی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور پیکج کے خدوخال کو ایوان میں لایاجائے ۔اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے میر زابد ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہاکہ واشک میں جس نائب تحصیل دار نے فائرنگ کو آج بھی تعینات ہے جس سے میرا استحقاق مجروح ہواہے معاملہ استحقاق کمیٹی میں ہے اور استحقاق کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مذکورہ نائب تحصیل دار کو وہاں سے ٹرانسفر کیاجائے ۔جس پر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہاکہ معاملہ استحقاق کمیٹی کے سامنے موجود ہے اور یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جہاں واقعہ پیش آیا نائب تحصیلدار کو وہاں سے ہٹا دیاگیاہے کسی کے کہنے پر تبادلہ ممکن نہیں استحقاق کمیٹی میں اگر جرم ثابت ہوتاہے تو تحصیل دار کو قانون کے مطابق سزا ملے گی ۔جمعیت کے رکن اسمبلی اصغر ترین نے کہاکہ پشین میں گیس سلنڈر دھماکے میں 6افراد جھلس کر جاںبحق ہوئے ہیں انہیں معاوضہ فراہم کیاجائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More