The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلوچستان اسمبلی اجلاس، سدرن علاقوں سے اراکین اسمبلی کو120ارب روپے کے پیکج کے حوالے سے اعتماد میں لیاجائے ، اپوزیشن اراکین اسمبلی … =وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر اپوزیشن … مزید

7

!کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین اسمبلی نے کہاہے کہ سدرن علاقوں سے اراکین اسمبلی کو120ارب روپے کے پیکج کے حوالے سے اعتماد میں لیاجائے ،وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر اپوزیشن نمائندوں کو بلایاجاتا تو ہم ضروراپنی تجاویز پیش کرتے جو غلطیاں پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں ہوئی انہیں سرزد نہ کیاجائے،صوبے میں صحت ،تعلیم ،روزگار ،انفراسٹرکچر اور ترقی کے منصوبوں کو ترجیح اور پیکج کے خدوخال کو ایوان میں لایاجائے،ٹینڈرز اسٹے کے باوجود جاری ہورہاہے جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے ،سریاب سے متعلق منتخب ارکان کو نظرانداز کیاجارہاہے ۔ان خیالات کااظہار اپوزیشن ارکان اسمبلی اخترحسین لانگو،احمدنواز بلوچ،ملک نصیراحمدشاہوانی ،ثنا بلوچ، میر زابد ریکی ،اصغر ترین نے اسمبلی اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈرپراظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی اخترحسین لانگو نے کہاکہ پی ایس ڈی پی کاکیس عدالت میں زیر سماعت ہے عدالت نے اس حوالے سے تمام ٹینڈرز پر اسٹے جاری کیاگیاہے تاہم اس کے باوجود نصیرآباد،خاران ،کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز جاری ہورہے ہیںاور اخبارات میں ٹینڈرز مشتہر کئے جارہے ہیں جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے استدعا کی کہ عدالتی فیصلہ آنے تک ٹینڈرز کو روکنے کیلئے رولنگ دیں ۔

احمد نواز بلوچ نے کہاکہ وی آئی پی موومنٹ کے باعث آج سریاب میں ٹریفک شدید متاثر رہی گنجان آبادی کے باعث لوگوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑا ،انہوں نے کہاکہ سریاب سے اپوزیشن کے تین اراکین منتخب ہوئے ہیں تاہم ہمیں وی آئی پیز کی آمد سے متعلق اطلاع نہیں دی جاتی بی این پی کے ملک نصیراحمد شاہوانی نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں بلڈوزرکے لاکھوں گھنٹے مختص ہونے پر ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ پابندی کے باوجود پی ایس ڈی پی میں بلڈوزر گھنٹے رکھے گئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اگر بلڈوزر کے گھنٹوں پر پابندی ہے تواس کو پی ایس ڈی پی میں کیوں شامل کیاگیا بی این پی کے رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے سدرن علاقوں کیلئے پیکج زیر غور ہے 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کیلئے پیکج کااعلان کیا تاہم اس ضمن میں مشاورت نہ ہونے سے بلوچستان پیکج کے مثبت اثرات سے محروم رہاہے مذکورہ پیکج میں عوام کے مسائل کو سامنے نہیں رکھا گیا انہوں نے کہاکہ سدرن علاقوں سے اراکین اسمبلی کو120ارب روپے کے پیکج کے حوالے سے اعتماد میں لیاجائے ،وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر اپوزیشن نمائندوں کو بلایاجاتا تو ہم ضروراپنی تجاویز پیش کرتے جو غلطیاں پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں ہوئی انہیں سرزد نہ کیاجائے ،سدرن علاقوں میں صحت ،تعلیم ،روزگار ،انفراسٹرکچر اور ترقی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور پیکج کے خدوخال کو ایوان میں لایاجائے ۔جمعیت علما اسلام کے میر زابد ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہاکہ واشک میں جس نائب تحصیل دار نے فائرنگ کو آج بھی تعینات ہے جس سے میرا استحقاق مجروح ہواہے معاملہ استحقاق کمیٹی میں ہے اور استحقاق کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مذکورہ نائب تحصیل دار کو وہاں سے ٹرانسفر کیاجائے ۔جس پر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہاکہ معاملہ استحقاق کمیٹی کے سامنے موجود ہے اور یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جہاں واقعہ پیش آیا نائب تحصیلدار کو وہاں سے ہٹا دیاگیاہے کسی کے کہنے پر تبادلہ ممکن نہیں استحقاق کمیٹی میں اگر جرم ثابت ہوتاہے تو تحصیل دار کو قانون کے مطابق سزا ملے گی ۔جمعیت کے رکن اسمبلی اصغر ترین نے کہاکہ پشین میں گیس سلنڈر دھماکے میں 6افراد جھلس کر جاںبحق ہوئے ہیں انہیں معاوضہ فراہم کیاجائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More