The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلوچستان اسمبلی ، ضلع واشک کے علاقے ساجد میں زلزلہ کے حوالے سے ثنا بلوچ کی توجہ دلائو نوٹس نمٹا دی

15

پیر ستمبر
22:30

Hکوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) بلوچستان اسمبلی نے ضلع واشک کے علاقے ساجد میں زلزلہ کے حوالے سے ثنا بلوچ کی توجہ دلائو نوٹس نمٹا دی۔

(جاری ہے)

اسمبلی اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ثنا بلوچ نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے سے استفسار کیا کہ گزشتہ ماہ ضلع واشک کے علاقے ساجد میںآنے والے زلزلے سے تقریبا10ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں حکومت نے اس سلسلے میں تاحال کیا اقدامات اٹھائے ہیں نیز ان علاقوں کے عوام کے مالی نقصانات ، صحت اور تعلیم کے حوالے سے کیا منصوبہ زیر غور ہے انہوںنے کہا کہ زلزلے کے فورابعد حکومت کو متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے لیکن افسوسناک طو رپر کچھ نہیں یا گیا متاثرہ علاقے میں صحت او رتعلیم کے اداروں کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں متاثرین سرد موسم میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں خواتین اور بچوں میں اب موسمی بیماریاں پھیل رہی ہیں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے وہاں جا کر بیٹھ جاتی پالیسی بناتی اور فریم ورک بنا کر اقدامات کرتی اور متاثرین کی امداد وبحالی کے بعد ہی وہاں سے نکلتی اب پی ڈی ایم اے نے جو سمری بھیجی ہے وہ اگر منظور ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ میں اپنے ایم پی اے فنڈ سے ساجد کے زلزلہ متاثرین کے لئے دوکروڑ روپے کا اعلان کرتا ہوں حکومت نہ صرف میرے فنڈز سے دو کروڑ روپے ساجد کے متاثرین کے لئے وقف کردے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمام اراکین کے ترقیاتی فنڈزسے ایک ایک کروڑ روپے لے کر متاثرین کی امداد وبحالی پرلگائے جائیں اس موقع پر واشک سے منتخب رکن میر زابد ریکی نے ایوان کو بتایا کہ بسیمہ کے علاقے ساجد میں یہ زلزلہ13اگست کی رات کو آیا تھا جس کے بعد اب تک زلزلوں کے جھٹکے تھمے نہیں بلکہ ا ب بھی آفٹرشاکس آرہے ہیںحکومت چار پانچ گاڑیوں میں امداد بھیجی لیکن یہ عارضی امداد ہے کیونکہ صرف خیمے بھیجنے سے متاثرین کی امداد وبحالی ممکن نہیں انہوںنے کہا کہ اب پی ڈی ایم اے نے ساجد کے زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے جو سمری بھیجی ہے اس میں متاثرہ گھروں کی تعداد550بتائی گئی ہے اور فی گھر ایک لاکھ روپے دینے کی سفارش کی ہے جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک لاکھ روپے میں گھر بنانا تورہا ایک طرف صرف گھر کی چھت بھی نہیں ڈھل سکتی انہوںنے کہا کہ 2013 میں آواران میں آنے والے زلزلے کے بعد فی گھر4لاکھ57ہزار روپے کا اعلان کیا گیا تھا یہاں بھی ایک لاکھ کی بجائے معاوضے کی رقم کم از کم 4لاکھ57ہزار کردی جائے تاکہ متاثرین کو مکانات کی تعمیر میں مدد مل سکے اس موقع پر صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ زلزلے کے فورابعد پی ڈی ایم اے کی جانب سے 1000خاندانوں کے لئے ریلیف کا سامان متاثرین علاقے بھجوادیا گیا تھا اور یہ تمام سامان ضلعی انتظامیہ کی مدد سے متاثرین میں تقسیم کی گئی زلزلہ ماثرین کی امداد وبحالی کے لئے حکومت کام کررہی ہے جو سمری پی ڈی ایم اے نے بھیجی ہے وہ اسسمنٹ کے بعد ہی بھیجی ہے انہوںنے ثنا بلوچ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی اراکین اپنے فنڈز سے رقم دینے کے لئے تیار ہیں اپوزیشن اراکین کے فنڈز سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی لیکن جو سمری پی ڈی ایم اے نے بھیجی ہے وہ منظور کرلی جائے گی حکومت متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے بعدازاں اجلاس کی صدارت کرنے والے اخترحسین لانگو نے توجہ دلائو نوٹس نمٹانے کی رولنگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے جاری سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور اگلے اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا جائی

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More