The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلوچستان اسمبلی ،مارکیٹ کمیٹی کوئٹہ کے چیئر مین کیخلاف قوائد منتخب کرنے اور ساجد میں آنیوالے زلزلے سے متعلق توجہ دلائو نوٹسز نمٹا دئیے گئے … گورنر کی جانب سے حکومتی … مزید

6

وئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مارکیٹ کمیٹی کوئٹہ کے چیئر مین کی خلاف قوائد منتخب کرنے اور ساجد میں آنے والے زلزلے سے متعلق توجہ دلائو نوٹسز نمٹا دئیے گئے ، گورنر کی جانب سے حکومتی امور سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر تحریک التواء 17ستمبر کے اجلاس میں بحث کے لئے منظور کرلی گئی اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیراحمدشاہوانی نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ مارکیٹ کمیٹی کوئٹہ کاممبر /چیئرمین قوائد وضوابط کے تحت کوئٹہ کے مقامی زمیندار کوہی مقرر کیاجاتاہے جبکہ قوائد کے برخلاف کسی دوسرے ضلع کے زمیندار وممبر /چیئرمین منتخب کرنے کی کیاوجوہات ہے تفصیل دی جائے ۔صوبائی وزیر زراعت کی عدم موجودگی میں وزیرپی ایچ ای /واسا حاجی نورمحمد دمڑ نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کاچیئرمین یقینی طورپر مقامی زمیندار ہونا لازمی ہے انتخاب کے طریقہ کار یہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کے انتخاب سے قبل ان کی اراضی کی تصدیق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے کی جاتی ہے اوراس کے بعد کمیٹی کے ممبران اپنے چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں ،اس کیلئے ضروری ہے کہ ارکان کی کوئٹہ میں اراضی اور جائیداد ہونی چاہیے بی این پی کے ملک نصیرشاہوانی نے کہاکہ کمیٹی کے جو چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کی شائد کاروباری حوالے سے کوئٹہ میں زمین ہو مگر ان کا کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کوئٹہ کے مقامی زمیندار ہے ان کی تقرری سے کوئٹہ کے مقامی زمینداروں سے ناانصافی کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جو بھی وزیر بنتاہے وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو کوئٹہ کی آسامیوں پر ملازمتیں دے دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دوسرے اضلاع کے لوگوں کی بڑی تعداد کوئٹہ میں ملازمت کررہی ہے یہی کچھ حال ہی میں واسا میں بھی کی گئی ہے جہاں ایک شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہے جو موجودہ زرعی کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کا تعلق ژوب سے ہے ان کاشناختی کارڈ تک کوئٹہ کا نہیں اگر ہم سے ناانصافیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم اپنی مارکیٹ کمیٹی بنائیںگے جس کے بعد حالات کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی اس سلسلے میں ہم مقامی قبائل کے اجلاس میں فیصلہ کرینگے ۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نورمحمددمڑ نے کہاکہ مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کا زمیندار ہونا لازمی ہے اس کیلئے ضروری نہیں کہ اس کاشناختی کارڈ کوئٹہ سے ہو جہاں تک واسا میں تقرریوں کا معاملہ ہے تو اس وقت واسا میں دو ہزارافراد ملازمت کررہے ہیں جن میں سے 5سو کا تعلق کوئٹہ اور باقی کا دوسرے اضلاع سے ہے جبکہ سابق دور حکومت میں ایک دن میں 4سو افراد بھرتی کئے گئے ہیں جن میں 200کا تعلق قلعہ سیف اللہ سے تھا میرے دور میں 10اضلاع سے میرٹ پرملازمتیں دی گئی زیارت سے جن لوگوں کو ملازمتیں ملی ہیں وہ زیارت کے زلزلے کے بعد سے کوئٹہ کے رہائشی ہے اور میرٹ پر ملازمت کررہے ہیں ،بی این پی کے اخترحسین لانگو نے کہاکہ کوئٹہ کو لاوارث سمجھ لیا گیا چوکیدار کی آسامی پر خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے سابق دور میں نواب نوروز سپورٹس کمپلیکس میں 260سے زائد مالی بھرتی کئے گئے مگر ان میں سے آج کوئی کام کرتاہوا نہیں نظرآتا اسی طرح واسا میں بھرتی ہونے والے لوگ بھی کل زیارت میں نظرا ٓئیںگے ۔اس موقع پر صوبائی وزیر نورمحمددمڑ ،ملک نصیر شاہوانی ،احمد نواز بلوچ اور اخترحسین لانگو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے ارکان کے بیک وقت بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے توجہ دلائو نوٹس نمٹادیا۔اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ثناء بلوچ نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے سے استفسار کیا کہ گزشتہ ماہ ضلع واشک کے علاقے ساجد میںآنے والے زلزلے سے تقریبا10ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں حکومت نے اس سلسلے میں تاحال کیا اقدامات اٹھائے ہیں نیز ان علاقوں کے عوام کے مالی نقصانات ، صحت اور تعلیم کے حوالے سے کیا منصوبہ زیر غور ہے انہوںنے کہا کہ زلزلے کے فورا-بعد حکومت کو متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے لیکن افسوسناک طو رپر کچھ نہیں یا گیا متاثرہ علاقے میں صحت او رتعلیم کے اداروں کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں متاثرین سرد موسم میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں خواتین اور بچوں میں اب موسمی بیماریاں پھیل رہی ہیں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے وہاں جا کر بیٹھ جاتی پالیسی بناتی اور فریم ورک بنا کر اقدامات کرتی اور متاثرین کی امداد وبحالی کے بعد ہی وہاں سے نکلتی اب پی ڈی ایم اے نے جو سمری بھیجی ہے وہ اگر منظور ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ میں اپنے ایم پی اے فنڈ سے ساجد کے زلزلہ متاثرین کے لئے دوکروڑ روپے کا اعلان کرتا ہوں حکومت نہ صرف میرے فنڈز سے دو کروڑ روپے ساجد کے متاثرین کے لئے وقف کردے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمام اراکین کے ترقیاتی فنڈزسے ایک ایک کروڑ روپے لے کر متاثرین کی امداد وبحالی پرلگائے جائیں اس موقع پر واشک سے منتخب رکن میر زابد ریکی نے ایوان کو بتایا کہ بسیمہ کے علاقے ساجد میں یہ زلزلہ13اگست کی رات کو آیا تھا جس کے بعد اب تک زلزلوں کے جھٹکے تھمے نہیں بلکہ ا ب بھی آفٹرشاکس آرہے ہیںحکومت چار پانچ گاڑیوں میں امداد بھیجی لیکن یہ عارضی امداد ہے کیونکہ صرف خیمے بھیجنے سے متاثرین کی امداد وبحالی ممکن نہیں انہوںنے کہا کہ اب پی ڈی ایم اے نے ساجد کے زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے جو سمری بھیجی ہے اس میں متاثرہ گھروں کی تعداد550بتائی گئی ہے اور فی گھر ایک لاکھ روپے دینے کی سفارش کی ہے جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک لاکھ روپے میں گھر بنانا تورہا ایک طرف صرف گھر کی چھت بھی نہیں ڈھل سکتی انہوںنے کہا کہ 2013ء میں آواران میں آنے والے زلزلے کے بعد فی گھر4لاکھ57ہزار روپے کا اعلان کیا گیا تھا یہاں بھی ایک لاکھ کی بجائے معاوضے کی رقم کم از کم 4لاکھ57ہزار کردی جائے تاکہ متاثرین کو مکانات کی تعمیر میں مدد مل سکے اس موقع پر صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ زلزلے کے فوراًبعد پی ڈی ایم اے کی جانب سے 1000خاندانوں کے لئے ریلیف کا سامان متاثرین علاقے بھجوادیا گیا تھا اور یہ تمام سامان ضلعی انتظامیہ کی مدد سے متاثرین میں تقسیم کی گئی زلزلہ ماثرین کی امداد وبحالی کے لئے حکومت کام کررہی ہے جو سمری پی ڈی ایم اے نے بھیجی ہے وہ اسسمنٹ کے بعد ہی بھیجی ہے انہوںنے ثناء بلوچ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی اراکین اپنے فنڈز سے رقم دینے کے لئے تیار ہیں اپوزیشن اراکین کے فنڈز سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی لیکن جو سمری پی ڈی ایم اے نے بھیجی ہے وہ منظور کرلی جائے گی حکومت متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے بعدازاں اجلاس کی صدارت کرنے والے اخترحسین لانگو نے توجہ دلائو نوٹس نمٹانے کی رولنگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ زلزلہ متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے جاری سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور اگلے اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا جائے اجلاس میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے اپنی تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل29/3کے تحت گورنر کو ہر سال صوبے کے امور سے متعلق رپورٹ پیش کرنی پڑتی ہے لیکن تاحال یہ رپورٹ پیش نہیں ہوئی یہ ایک اہم اور فوری نوعیت کا حامل مسئلہ ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم مسئلے کو زیر بحث لایا جائے بعدازاں اجلاس کی صدارت کرنے والے اختر حسین لانگو نے ایوان کی مشاورت سے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک التواء پر 17ستمبر کے اجلاس میں بحث کرائی جائے گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More