The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بلاول کو معلوم نہیں غریب سیلاب متاثرین کے پاس دو وقت کی روٹی کی کتنی اہمیت ہے،حلیم عادل شیخ … ہم بغیر کسی تفریق کے سیلاب متاثرین کی مدد کررہے ہیں۔اندرون سندھ صدر مملکت … مزید

8

میرپورخاص(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ بلاول کو معلوم نہیں غریب سیلاب متاثرین کے پاس دو وقت کی روٹی کی کتنی اہمیت ہے۔ہم بغیر کسی تفریق کے سیلاب متاثرین کی مدد کررہے ہیں۔اندرون سندھ صدر مملکت کے پروگرام کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کو راجا ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ا س موقع پر رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو، پی ٹی آئی رہنما جہانشیر جونیجو، اکبر پلی، علی پلھ راجا عبدالحق، آفتاب قریشی و دیگر بھی شریک تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا ہم گزشتہ دو ہفتوں سے میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ کے برسات متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں بغیر کسی تفریق کے سیلاب متاثرین کی مدد کی جارہی ہے صدر مملکت کے پروگرام کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، سارا سامان متاثرین کے لئے رکھا تھا سب رات تک ڈسٹریبیوشن جاری رکھنی تھی۔

(جاری ہے)

میرپورخاص کی انتظامیہ نااہل ہے جس نے اپنے آقاہوں کے کہنے پر راشن کے ٹرکوں پر حملہ کرایا۔ہم مقرر کردہ طریقہ کار سے راشن کی تقسیم کر رہے تھے انتظامیہ نے متاثرین کو ٹرک لوٹنے کے لئے چھوڑا۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا بلاول نے گزشتہ روش کہا راشن تقسیم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بلاول کو معلوم نہیں غریب سیلاب متاثرین کے پاس دو وقت کی روٹی کی کتنی اہمیت ہے۔ بلاول اور سندھ حکومت کے وزراء ہفتے سے ہیلیکاپٹرس پر چل رہے ہیں۔ کسی بھی سیلاب متاثرہ خاندان کی مدد نہیں کی گئی ہے۔ بلاول سے کہوں گا راشن سے پیٹ بھرتا ہے بھاشن سے نہیں۔ بلاول کروڑوں روپے عوام کے خرچ کرکے سیلاب متاثرین میں صرف یہ کہنے جاتے ہیں کہ وفاق کچھ نہیں دے رہا۔ پچھلے چھ دن سے بلاول و سندھ حکومت کے سیلاب متاثرین کے دورے کر رہے ہیں۔ وفاق کے خلاف بھاشن دینے کے بجائے متاثرین کو راشن دیا جاتا تو متاثرین کی تکلیف کم ہوجاتی۔ بلاول سندھ حکومت کی نااہلی چھپانے کے لئے وفاق پر تنقید کر رہے ہیں۔ 18ویں ترمین کے بعد تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ راشن بیگ گورنر پنجاب و گورنر سندھ کی جانب سے تقسیم کیے جارہے ہیں۔ ٹینٹ این ڈی ایم اے کی جانب سے دیئے جارہے ہیں۔ دس ہزار راشن بیگ و دیگر سامان یو اے ای کے شیخ خلیفہ بن زاید النہیاں فائونڈیشن کی جانب سے تقسیم کیا جارہا ہے۔ تمام سامان بغیر کسی تفریق کے سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا وفاق نے کرونا وبا میں بھی سندھ کی عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ سندھ کی عوام میں ساٹھ ارب روپے تقسیم کئے گئے اب بھی مزید وفاق متاثرین کی مدد کرے گا۔ بلاول کو اب ہیلیکاپٹر سے اتر کر عوان میں جانا چاہئے اور امداد کرنی چاہیے۔ عوام کو راشن کی ضرورت ہے خالی بھاشن دینے سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ وفاق سیلاب متاثرین کے لئے الگ سے پیکیج بھی دیگا۔ ہم چاہتے ہیں جو پیسہ وفاق دے وہ غریبوں تک پہنچے کسی جعلی اکائونٹوں میں غریبوں کو پئسا نہیں جانے دیں گے، 2010?2011 میں سیلاب سے یہ زیادہ ہے اس میں دریائوں میں بھی سیلاب ہے، بارشوں سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو سیم نالوں نے ڈبویا ہے۔ایریگیشن میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہوئی اربوں کی کرپشن کی وجہ سے بند مضبوط نہیں ہوئے آج بھی کہیں ڈزاسٹر آتا ہے پاک فوج پہنچتی ہے سندھ کا ریسکیو ادارہ پی ڈی ایم اے کہیں نظر نہیں آتا ہے جھڈو میں دن شگاف بند کیا جاتا ہے رات کو کھولا جاتا ہے برسات متاثرین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں کوئی ہیلتھ کے حوالے سے کام نہیں ہورہا کہیں بھی میڈیکل کئمپ نہیں لگائی ہے لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں وبائی صورتحال ہوسکتی ہے۔اس علاقے کے لوگ مویشیوں پر منحصر کرتے ہیں جانور مر رہے ہیں۔ لائیو اسٹاک کے افسران کہیں نظر نہیں آرہے۔ سندھ حکومت کے وزراء پارٹیاں کر رہے ہیں کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔سندھ حکومت ناکام ہوچکی ہے عوام کی کوئی امداد نہیں کی جارہی ہے وزیر اعلیٰ سندھ کے حلقے کے اندر عوام کو کوئی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں آدھا سندھ ڈوبا ہوا ہے سندھ حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ۔سماجی ادارے کام کر رہے ہیں وفاقی ادارے کام کر رہے ہیں این جی اوز صرف فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سیمینار کرنے آتی ہے آج اس حالات میں کوئی این جی او نظر نہیں آرہی ہے مخیر حضرات بھی ان متاثرین کی مدد کریں ان علاقوں میں پہنچے ہزاروں خاندان سڑکوں کی کناروں پر پڑے ہیں ہم این ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ تقسیم کر رہے ہیں راشن بھی دیا جارہا ہے۔ بارہ سالوں میں ایریگیشن جو کام کیا ہے اس کی آڈٹ کرائی جائے ایریگیشن میں کرپٹ آفسران کے اثاثے چیک کرائے جائیں نیب تحقیقات کرائے۔جہاں جہاں غیر قانونی قبضے ہیں رینجرز، پاک آرمی خالی کرائے۔ہمارا ہر کارکن اپنے جیب سے خرچ کر کے متاثرین سیلاب کی مدد کر رہا ہے۔سیلان متاثرین کی مکمل بحالی تک ہم مدد کریں گے۔کراچی میں جانائز تجاوزات بنائیں گئی ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہورہے ہیں۔ بغیر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریش ایس بی سی اے کی اجازت کے کوئی بلنڈنگ نہیں بنائی جاتی۔ رشوت دیکر کراچی میں کوئی بھی ناجائز تجاوزات بنا سکتا ہے۔ 12 سالوں سے کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کہ جارہی ہیں کوئی روکنے والا نہیں.سندھ حکومت جعلی تعمیرات کرانے والوں کہ سرپرستی کر رہی ہے۔جنہوں نے بھی یہ غیر قانونی تجاوزات کی ہیں ان کے خلاف کاووائی کی جائیں۔ کوئی غریب کچی آبادی میں واش روم کا سامان بھی کے جاتا ہے تو پولیس پکڑ لیتی ہے۔ یہاں بڑی بڑی بیس منزلہ عمارتیں رشوت دیکر بنائی جاتی ہیں کوئی پوچھلے والا نہیں۔ غیر قانونی تعمیرات چائنا کٹنگ میں کوئی بھی افسر یا پارٹی ملوث ہو کارروائی کی جائے۔ نیب تحقیقات کرائے کس طرح ایس پی ایس سے نے ایسی عمارتیں بنانے دیں ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More