The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بدقسمتی ہے، کچھ لوگ نئے پاکستان کو مشکل وقت سے جوڑ رہے ہیں، عمران خان … کیمرا مین لوگوں سے پوچھتا ہے کدھر ہے نیا پاکستان؟ لوگ کہتے ہیں مہنگائی ہوگئی ہے، پہلے روٹی کپڑا … مزید

15

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی ہے، کچھ لوگ نئے پاکستان کو مشکل وقت سے جوڑ رہے ہیں، کیمرا مین لوگوں سے پوچھتا ہے کدھر ہے نیا پاکستان؟ لوگ کہتے ہیں مہنگائی ہوگئی ہے، پہلے روٹی کپڑا مکان نعرہ تھا، اب پہلی بار غریب، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو کم شرح سود پر گھر ملے گا۔انہوں نے راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی بنائی تو بڑی مشکل آئی۔ نیا پاکستان کیا ہے؟ جب بھی کوئی مشکل وقت ہوتا ہے تو کیمرا مین لوگوں سے پوچھتا ہے کدھر ہے نیا پاکستان؟ لوگ کہتے ہیں مہنگائی ہوگئی ہے، برے حالات ہیں۔ اسی طرح اب کراچی میں سیلاب آیا ہوا ہے، تو جب لوگوں سے کوئی پوچھے گا بتائیں کیسے حالات ہیں تو کوئی تعریف تو نہیں کرے گا؟ جب ملک کے مشکل حالات ہیں، ایک ملک کو مقروض کردیا گیا، ملک چلانے کیلئے پیسا چاہیے ہو، تو مشکل وقت تو ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

دنیا میں جس نے بھی بڑا کام کیا ہے، اس نے اپنی صلاحیتوں، تعلیم یا بڑے گھر میں پیدا ہونے سے نہیں کیا، بلکہ اس نے خواب بڑا دیکھا تھا۔ جو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر چڑھا اس کو ہر کوئی یاد رکھے گا۔ اگر میری خواب یہ ہے کہ میں نے کلب کرکٹر بننا ہے تو میں انٹرنیشنل کرکٹر نہیں بنوں گا۔ جو بھی اوپر جاتا ہے اس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، جب کسی نے سوچا کہ چاند پر جانا ہے تو کہا گیا دنیا ہی ختم ہوجائے گی۔ اللہ نے انسان کو بڑی صلاحیت دی ہے، اشرف المخلوقات، اللہ نے فرشتوں کو کہا میں نے جو انسان کو طاقت دیا ہے وہ فرشتوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ ہماری سوچ حکومت میں آئے فیکٹریاں لگائیں، پیسا کمایا، بس یہی سوچ ہے۔ بڑی سوچ مہاتیر محمد کی ہے، ملائیشیاء کا دارلحکومت سٹی مہاتیر نے بنایا۔ راوی پراجیکٹ اس لیے نہیں بنا، کہ جو حکومت میں آئے ان کی سوچ پاور میں آکر پیسا بنانا تھی۔ بڑی سوچ کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں۔ نیا شہر بنانا آسان کام نہیں ہے۔ یہ شہر لاہور اور پاکستان کی ضرورت ہے۔ لاہور میں چالیس فیصد کچی آبادیاں ہیں۔ ہم نے سوچا ہی نہیں کہ مزدور کہاں رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ سارے فیصلے چھوٹوں کیلئے کیے گئے۔ مجھے کہا گیا کہ اٹلی، اسپین، اب انگلینڈ میں بھی لاک ڈاؤن لگ گیا، میں نے پوچھا کہ کچی بستیوں میں رہنے والوں اور مزدروں کا کیا بنے گا؟ کسی نے جواب نہیں دیا، ان کا کوئی نہیں سوچ رہا تھا بلکہ چھوٹا سا طبقہ اپنا سوچ رہا تھا۔ ان پتا تھا سرکاری ملازم گھر میں بیٹھ جائیں گے ان کو تنخواہ بھی ملتی رہے گی۔ بھارت میں مودی نے سوچا نہیں۔ وہاں لوگوں کی زندگی مشکل ہوگئی۔ ریاست مدینہ میں غریبوں کی فلاح کا سوچا گیا، اور دنیا کی عظیم ریاست بن گئی۔ چین نے ثابت کردیا ہے کہ چین نے70 کروڑ لوگوں کو اوپر اٹھا دیا تو عظیم قوم بن گیا۔ 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More