The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بخوبی اندازہ ہے سیاستدانوں کی طرح معززججز بھی دباؤ میں ہیں، مریم نواز … وارنٹ گرفتاری کا حکم اسی مقدمے میں ہے، جس مین سزا دینے والے جج ارشد ملک دباؤ میں فیصلہ دینے کا … مزید

8

لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ بخوبی اندازہ ہے سیاستدانوں کی طرح معززججز بھی دباؤ میں ہیں، وارنٹ گرفتاری کا حکم اسی مقدمے میں ہے، جس مین سزا دینے والے جج ارشد ملک دباؤ میں فیصلہ دینے کا اعتراف کیا، محترم چیف جسٹس صاحب! یہ تکلیف دہ سفر کب تمام ہوگا؟ کتنے بےگناہ قومی رہنماؤں اورمعزز ججوں کی قربانی چاہیے ہوگی؟ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں مریم نواز نے اپنے والد اور قائد ن لیگ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی عدالت میں حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد ہونے کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ محترم چیف جسٹس صاحب ! یہ تکلیف دہ سفر کب تمام ہو گا؟ نظامِ انصاف کو اپنے مقام تک پہنچنے کے لیئے کتنے بےگناہ قومی رہنماؤں اور آئین، قانون اور انصاف پر چلنے والے معزز ججوں کی قربانی چاہیے ہو گی؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر رک جائے گا؟ دباؤ اور جبر انتظار کرنے سے نہیں ڈٹ کر مزاحمت کرنے سے ختم ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس صاحب ! کیا آپ اس بیرونی دباؤ کے بارے میں عوام کو کچھ بتائیں گے کہ کون  انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے اور کس کے سامنے جج صاحبان بے بس ہیں؟ انہوں نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے خود فرمایا کہ دباؤ کا شکار ججز عوام کو انصاف نہیں دے سکتے۔ ہمارے نظام انصاف کے بارے میں اس سے بڑی گواہی کیا ہوگی؟عوام تو کچھ عرصہ اور ناانصافی بھگت لیں گے لیکن معزز جج صاحبان کو بیرونی دباؤ سے کب اور کیسے نجات ملے گی؟ اگر معزز جج صاحبان نے آج دباؤ کے خلاف سٹینڈ نہ لیا تو یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تک نہیں رکے گا بلکہ ہر وہ جج جو آئین اور قانون پر چلے گا اس ظلم و انتقام کی زد میں آئے گا۔ اور کیا دوسرے معزز ججز کو جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرح انتقام کا نشانہ بننے سے بچانا نہیں چاہیے؟ مریم نواز نے کہا کہ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ سیاستدانوں کی طرح معزز ججز بھی دباؤ میں ہیں، ان کے فیصلے کہ رہے ہیں کہ وہ دباؤ میں ہیں۔ مگر کیا معزز جج حضرات کو اس قسم کے عدلیہ دشمن واروں کے سامنے دیوار نہیں بن جانا چاہیے؟ جو جیل کی کال کوٹھری میں جانے کے لیے اپنی 47 سالہ رفیقِ حیات کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر ، اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹنے وطن واپس آ گیا ہو اور قانون کے آگے پیش ہو گیا ہو۔ ایسے ہوتے ہیں مفرور اور اشتہاری ؟ بتاؤ کسی ایک کا نام جس کے لیے ایجنسیز پر مشتمل جےآئی ٹی بنی ہو ، جس کے لیے نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو، جس کے لیے مانیٹرنگ ججز لگائے گئے ہوں، جس نے بیٹی سمیت عدالتوں میں 150 سے زائد پیشیاں بُھگتی ہوں؟ مقدمہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ جج کے اعترافِ جُرم کے بعد سزا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر سزا ہی قائم نہ رہتی ہو تو واپسی کیسی ، گرفتاری کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک کو تو گھر بھیج دیا گیا مگر اس سے یہ نہیں پوچھا کہ نواز شریف کو سزا کس کے کہنے پر دی ؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا؟ یاد رہے کہ نواز شریف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم اسی مقدمے میں ہے جس میں خود سزا دینے والے جج ارشد ملک نے نواز شریف کی نا صرف بیگناہی بلکہ بلیک میلنگ اور دباؤ میں زبردستی فیصلہ دلوائے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگر فیصلہ آج بھی جوں کا توں!

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More