The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے شہر کو بیمارستان بنا دیا ہی:پاسبان

10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کراچی شہر کو بیمارستان بنا دیا ہے۔ کراچی میں گندگی، کچرے اور تعفن کے باعث وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔ کراچی میں وفاق اور سندھ حکومت کی نورا کشتی بند کی جائے، نقصان صرف شہریوں کا ہورہا ہے۔ جگہ جگہ موجود گندے پانی کے جوہڑوں اور کچرے کے پہاڑوں پر زمینی اور فضائی جراثیم کُش اسپرے کیا جائے۔ صدیوں سے موجود بوسیدہ سیوریج سسٹم کی اوور ہالنگ کی جائے۔ جوہڑوں کے گندے پانی کی نکاسی کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ کراچی میں کام کرنے والے تمام سرکاری اداروں بشمول کنٹونمنٹ بورڈ اور بلدیاتی و شہری اداروں کو ایک پیج پر لایا جائے۔

(جاری ہے)

کراچی کے مسائل کا واحد حل اس شہر کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دینے میں ہے۔ وہ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں کراچی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ا س موقعہ پر پاسبان کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار، پاسبان ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر خالد صدیقی ایڈووکیٹ اور ضلع کورنگی کے صدر سلیم للہ ملک نے بھی اظہار خیال کیا۔ پاسبان کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا کہ شہر میں گندگی کی صورتحال بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شہر کی حالت کی بہتری اور صفائی ستھرائی کے لئے نہ سندھ حکومت سنجیدہ ہے اورنہ ہی انتظامیہ ۔ پاسبان کی جانب سے بار بارتوجہ دلائے جانے والے اہم مسئلے سیوریج سسٹم کے بوسیدہ نظام کی اوورہالنگ میں حکومت اور انتظامیہ ناکام ثابت ہو گئی۔ شہر کے مختلف پوش علاقوںاور غریب آبادیوں سرجانی ٹائون، نارتھ ناطم آباد، نیا ناظم آباد، پی ای سی ایچ ایس، ڈیفنس و کلفٹن میں ابھی بھی سڑکوںاور گلیوں میں بارش کا پانی گندے جوہڑوں میں تبدیل ہو کر جوں کا توں موجود ہے۔ گندے پانی کے جوہڑوں میں کیچڑ، بدبو، غلاظت اور سڑاند کے باعث جراثیم پھیل رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے کراچی کے شہری، ڈائریا،سانس اور جلدی بیاریوں میں مبتلا ہو کر اسپتالوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہیں۔ گندے پانی میں مکھیوں ، مچھروں اور غلاظت میں پنپنے والے کیڑوں نے شہریوں کی زندگی اجیر ن کر رکھی ہے،رہنا سہنا، کھانا پینا اور سونا بُری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس نے شہریوں کی معاشی حالت تباہ کر رکھی ہے تو دوسری جانب روزمرہ کی بیماریوں اور گندگی سے پھوٹنے والے دیگر سنگین وبائی امرا ض سمیت ڈینگی اور ملیریا تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اسپتال ایک بار پھر مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نجی اسپتالوں کی چاندی ہورہی ہے اور مریضوں کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ شہر کراچی کو آئندہ بارشی پانی میں غرق ہونے سے بچانے کیلئے تمام چھوٹے بڑے سیوریج نالوں کو کچروں سے صاف کرکے کشادہ کیا جائے۔ مائی کلاچی بائی پاس اور ڈیفنس و کلفٹن سمیت تمام ایسے مقامات جہاں سے گندے پانی کی نکاسی سمندر کی جانب جا رہی ہے پانی کی راہ میں حائل رکاوٹوںکو دور کیا جائے۔ شہریوں کی معاشی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام نجی اسپتالوں کو مریضوںکو بلامعاوضہ یا سستے ترین علاج کی سہولت کے لئے پابند کیاجائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More