The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

بادینی گیٹ وے کو کھول دیا جائے،2005 سے قمردین کے عوام کو بادینی گیٹ وے کی خوشخبریاں دے رہے ہیں ،جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان

5

پیر ستمبر
22:30

۱کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان صوبائی امیر مولاناعبدالقادر لونی جنرل سیکرٹری حافظ عبد الاحدکبدانی سرپرست اعلی مولاناعبدالروف سنئیرنائب امیر مولانامحمدحیات نائب امیر مولاناقاری مہراللہ نائب امیر سید حاجی عبدالستار چشتی، نائب امیرمفتی رحمت اللہ خلجی نے کہا کہ حکومت بادینی گیٹ وے کو کھول دیا جائی2005 سے قمردین کے عوام کو بادینی گیٹ وے کی خوشخبریاں دے رہے ہیں لیکن آج تک وہی حالات پر ہے حالانکہ بادینی گیٹ وے ہر لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے بادینی گیٹ وے کھولنے سیلاکھوں افراد کوروزگار کے مواقع مل جائینگے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ 1200 سو سیزائد کلومیٹر پر بادینی سے لے کر نوشکی تک دس سے زائد گیٹ وے کھول دیا جائے جس سیلاکھوں افراد کوروزگار کے مواقع مل جائینگے کیونکہ بلوچستان میں کوئی اور روزگارنہیں نہ کوئی فیکڑی اورنہ کوئی اور کاروبارکی کوئی اور زریعہ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے عوام کی معاشی مشکلات کا احساس کرکے روزگار اور علاج معالجہ کے لیے موقع دیا جائے انہوں نیکہا کہ دودھ کی ندیاں بہانے کی دعویدار دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے طبقات کواپنے حقوق اور دووقت کی روٹی کمانے کا موقع دیا جائے بیروزگاری کی بڑھ جانے سے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے خدارا وفاق اپنے رویئے میں تبدیلی لائے اوربلوچستان کے عوام کے معیشت کیمسئلے کو سنجیدگی سے لی جائے اور اپنے وسائل پر اختیارات دیا جائے مغربی راہداری اور زون کے قیام اور گیٹ وے کھولنیکے حوالے سے بلوچستان کے عوام کی مسلسل جوشخبریوں کے سننے سے کان پک گئے ہیں لیکن آج تک تمام منصوبے ادھوریپڑے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

محرومی کی خاتمے کی خوشخبریاں سابقہ حکومتیں بھی سناتے رہے بلوچستان جو 70سال قبل بنیادی سہو لیات سے محروم تھی، آ ج بھی محروم ہے۔ صوبے کی عوام کے احساس محرومیوں کو دور کرنے کے بجائے انکی احساس محرومیوں میں اضافہ کیاگیا صرف نعروں اور وعدوں سیبلوچستان کا احساس محرومی ختم نہیں ہوگا

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More