The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ایک سازش کے تحت کے ایم سی اور ڈی ایم سیز میں سیاسی بنیادوں پر انتقامی کاروائیاں کی جا رہی ہیں ، رباب جعفری

9

جمعرات ستمبر
17:02

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 ستمبر2020ء) آفیسرز ایکشن کمیٹی کی وائس چیئرپرسن رباب جعفری نے کہا ہے کہ ایک سازش کے تحت کے ایم سی اور ڈی ایم سیز میں سیاسی بنیادوں پر انتقامی کاروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ ہم کے ایم سی افسران کے خلاف مہم سازی کی مذمت کرتے ہیں۔ بلدیہ کراچی اور ڈی ایم سیز کے افسران و ملازمین کونسل اور پبلک سرونٹ ہیں ۔SLGA2013میں چیپٹر نائن میں اسکی وضاحت موجود ہے۔ سول سرونٹ نہیں ۔ ان پر سپریم کورٹ کے آرڈر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وزارت بلدیات ایس ایل جی اے 2013میں ملازمین و افسران کی سروسز کی وضاحت دیکھ لے۔ Statuary باڈی افسران کے ایم سی ڈی ایم سی سروس میں ایک دوسرے کے محکموں میں تبادلے کراسکتے ہیں۔ وائس چیئرپرسن رباب جعفری نے کہا کہ سرکاری افسران بالخصوص کے ایم سی ڈی ایم سی افسران کے خلاف میڈیا کو استعمال کرکے سازش کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

وائس چیئرپرسن رباب جعفری نے کہا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے علاوہ کسی اور محکمے سے آنے والے سپریم کورٹ کے احکامات کے ذمرے میں آتے ہیں۔انکے تبادلوں پر کوئی اعتراض نہیں ۔ خلاف قانون کام کیا گیا تو احتجاج اور قانونی ہر راستہ اختیار کریں گے۔ آئون آف ٹرن پروموشن کا تحفظ نہیں کریں گے۔نبیلہ خانم ن کہا کہ کیڈر اور نان کیڈر پر اگر اتھارٹی کاروائی کرتی ہے تو اعتراض نہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ جیسے مقدس ادارے کی آڑ میں من مانے اور فرمائشی فیصلے قبول نہیں کریںگے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیاتی قیادت کے گھر جاتے ہی ان اداروں کو فتح کرلیا گیا ہے اور کراچی سے باہر سے تعینات افسران اب لسانی اور انتقامی بنیادوں پر اٹھک پھٹک چاہتے ہیں جو ایکشن کمیٹی نہیں ہونے دیگی۔ وزارت بلدیات کے ایم سی میں سو سے زائد جعلی میئر کے آرڈر اور تبادلوں ۔ تقرریوں جبری چارج لینے اور غنڈہ گردی کے واقعات پر کاروائی کرنے سے گریزان ہیں ۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی بھی صرف نمائشی افسر ثابت ہو رہے ہیں ۔ میٹروپولیٹن کمشنر میئر کے گناہوں کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ نجم شاہ اور ناصر شاہ اس پر کاروائی کریں ۔ سپریم کورٹ کو کراچی کو صاف ستھرا اور تجاوزات سے پاک کرکے دکھائیں۔ وہ آرڈر نہ دکھائیں جو ٹائم بار اور کے ایم سی ڈی ایم سی پر نافذ العمل نہیں ۔ قانونی مشیروں کو ٹاسک دے دیا ہے۔ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو راست اقدامات کریں گے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More