The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجہ فاروق اکرم خان کی زیر صدارت اجلاس ، تعلیمی اداروں کے ایس او پیز بارے غور

11

کوٹلی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) آزاد کشمیر بھر کی طرح آزاد کشمیر کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ضلع کوٹلی میں بھی تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کو یقینی بناتے ہوئے کھولنے کے حوالہ سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجہ فاروق اکرم خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا اجلاس میںڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سید شفقت حسین شاہ ،ڈی ای او مردانہ راجہ منصف داد خ،ڈی ای او زنانہ فوزیہ اسلم انفارمیشن آفیسر سردار محمد اکمل خان ،ہیلتھ ایجو کیٹر مدثر کاظمی ،اسسٹنٹ سردار شہزاد صادق کے علاوہ دیگر متعلقین نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سید شفقت حسین شاہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجہ فاروق اکرم خان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 13اگست کے بعد ضلع کوٹلی سے 520افراد کے کرونا ٹیسٹ کروائے گے جس میں سے 4پازیٹو آئے ضلع کوٹلی میں تعلیمی ادارہ جات کے کرونا ٹسٹنگ کے لیے ڈی ایچ کیو کوٹلی ، ٹی ایچ کیو فتح پور تھکیالہ ، ٹی ایچ کیو کھوئیرٹی ، ٹی ایچ کیو چڑہوئی،رولر ہیلتھ سنٹرتتہ پانی ، ٹی ایچ کیو سہنسہ میں 6سمپلنگ سنٹرز بنائے گے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر سربراہ ادارہ کے اتھارٹی لیٹر کی بنیاد پر اساتذہ کا Sample ٹیسٹ کے لیے لیا جائے گا ہر سنٹر میں روزانہ 15 Sample ٹیسٹ لیے جائیں گے کسی بھی ٹیچر کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کی صورت میں متعلقہ ٹیچر کو ہوم آئسولیٹ کیا جائے گا اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجہ فاروق اکرم خان نے کہا کہ یونیورسٹی ، کالجز اور سکولز میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایس او پیز پعملد ر آمد یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تعلیمی انتظامیہ سکولوں کو اس بات کا پابندبنائیں کہ وہ سٹاف اور بچوں کے ہاتھ دھونے کے عمل کو یقینی بنائیں۔

(جاری ہے)

اور اگر تو صابن سے ہاتھ دھونے ہیں تو پھر چالیس سیکنڈز تک دھوئے جائیں البتہ اگر ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنا ہے تو کم از کم بیس سیکنڈز تک اسے ہاتھوں پر لگایا جائے جبکہ سینیٹائزر میں 60 فیصد سے زیادہ الکوحل ہونی چاہیے طلبہ کو بتایا جائے کہ وہ بلاوجہ اپنے ہاتھ فرنیچر اور دیگر اشیا ء پر نہ لگائیںگھر میں داخل ہونے کے بعد طلبہ اسی طریقے سے ہاتھ دھوئیں، بہتر ہے کہ وہ نہا لیں پھر گھر والوں سے میل جول کریںسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صابن اور سینی ٹائزرز کا مناسب سٹاک یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں طلبہ یا اساتذہ کسی کو بھی سانس کا مسئلہ درپیش ہو تو ایسے فرد کو فوری طور پر الگ کر دیا جائے سکول کے اندر جہاں بھی فاصلہ چھ فٹ سے کم ہو ایسی کسی بھی اجتماع میں ماسک پہننے کو یقینی بنایا جائے یہ شرط اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے ہو گی۔بچوں کو اس بات کی خاص تربیت دی جائے کو وہ چھینیک ماسک یا آستین کے پیچھے لیں اسی طرح سکول پابند ہوں گے کہ وہ سکولوں میں فیس ماسک وافر تعداد میں رکھیں ایک فرد سے دوسرے فرد کے درمیان سماجی فاصلے کو چھ فٹ تک یقینی بنائیں۔ سکولز میں صبح کی اسمبلی نہیں ہو گی اسی طرح تعلیمی ادارہ جات کے داخلی اور خارجی راستوں پر سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے ایک سے زیادہ گیٹ بنائیںتعلیمی اداروں کی بسوں میں استعداد سے آدھے طلبہ کو بٹھایا جائے اساتذہ بھی تعلیم دیتے ہوئے مناسب سماجی فاصلہ اختیار کریں۔کلاس رومز میں طلبہ کو چھ فٹ کے فاصلے پر بٹھایا جائے اور اگر فرنیچر زمین میں فکس ہے تو طلبہ کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طلبہ ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیںتعلیمی ادارے کو کورونا سے متعلق آگاہی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیںکورونا سے متعلق تمام طرح کی دستیاب معلومات اداروں میں آویزاں کر یں اور ماہرین صحت کو تعلیمی اداروں میں بلا کر اس موضوع پر طلبہ سے انٹرایکشن بھی کروائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More