The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس … بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے ترمیمی بل 2020، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی اداروں کے ملازمین کے ڈومیسائل … مزید

4

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی کے 2ستمبر 2019کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے ترمیمی بل 2020، سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے 10جون 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی اداروں کے ملازمین کے ڈومیسائل کی تصدیق، سینیٹر ولید اقبال کے 4 مارچ 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائی1954کے آئین کے ڈرافٹ کی ڈی کلاسیفیکیشن کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی طرف سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت برائے پاکستان صوبائی سول سروسز اسوی ایشن میں نمائندگی کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے 10جون 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی اداروں کے ملازمین کے ڈومیسائل کی تصدیق کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ 9جنوری 2017کو ایوان بالا کے اجلاس میں ایک متفقہ طور پر قرارداد منظور کروائی تھی کہ وفاقی اداروں میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے ڈومیسائل کی تصدیق کرائی جائے مگر اٴْس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔اس قائمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ تصدیق کیلئے کتنے ڈومیسائل صوبہ بلوچستان کو بھیجے گئے اور اٴْس کی رپورٹ کیا ہے ورکنگ پیپر میں جو جواب فراہم کیا گیا اٴْس میں سوال کچھ اور تھا اور جواب کچھ اور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوکریوں کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی صوبہ بلوچستان کے لوگوں کا حق مارا جا رہا ہے ۔ بلوچستان کے اداروں میں بھی جعلی ڈومیسائل پر لوگوں نے ملازمتیں حاصل کر رکھی ہیں صرف ضلع مستونگ میں 1200ملازمین میں سے 400کے ڈومیسائل جعلی ہیں۔ تمام محکموں میں 60 فیصد لوگ جعلی ڈومیسائل پر کام کر رہے ہیں۔ جس پر سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ 28 اگست 2020کو تمام وفاقی اداروں کو خطوط لکھیں ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے کہ 2017 میں متفقہ قرارداد اور سفارشات بھیجی گئیں اور عملدرآمد کے حوالے سے متعدد بار خطوط بھی لکھے گئے مگر جواب فراہم نہیں کیا گیا ادارے پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں مکمل تیار ی سے بریف دیا کریں۔ سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ وفاقی اداروں میں صوبہ بلوچستان کے ملازمین کے ڈومیسائل متعلقہ ڈی سی سے تصدیق کیلئے بھیجے جائیں اور ایک مقررہ وقت میں جواب حاصل کئے جائیں۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے ٹی او آر طلب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، سیکرٹری قانون و انصاف کو طلب کر لیا اور ایک ہفتے میں اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال کے 4مارچ 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائی1954کے آئین کے ڈرافٹ کی ڈی کلاسیفیکیشن کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ یہ معاملہ 4مارچ 2020کو سینیٹ اجلاس میں بھی اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی ایک آئینی ڈرافٹ پر کام کر رہی تھی جس میں بہت اہم قد آور سیاست دان شامل تھے۔ 1954میں ایک ڈارفٹ تیار کیا گیا تھا مگر اسمبلی ٹوٹنے کی وجہ سے اٴْس کو سیکرٹ ڈاکومنٹ قراردے دیا گیا۔ قوم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی پاکستان کی عوام کیلئے کیا قانون بنانے جا رہی تھی جو انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے عوام کے سامنے آنا چاہئے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے تیار کر آئینی ڈرافٹ سے استفادہ کرنا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ وزارت کیبنٹ ڈویژن نے جواب دیا ہے کہ یہ معاملہ اٴْن سے متعلق نہیں ہے وزارت قانون و انصاف کے متعلق ہے افسوس کی بات ہے کہ ایجنڈے کو پڑھے بغیر رائے قائم کر لی جاتی ہے بغیر تصدیق کے جواب نہیں دینا چاہئے۔ جس پر ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے کہا کہ نیشنل آرکائیو سے رپورٹ لے کر ایک ہفتے کے اندر کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے حوالے سے بانی پاکستان، شاعر مشرق و دیگر عظیم رہنماؤں کے افکار کو ہمیں نئی نسل کو منتقل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے قائد اعظم محمد علی جنا ح کے ڈاکٹر ریاض علی شاہ کی ڈائری میں قائداعظم کے پاکستان کے حوالے سے خیالات پر ایک ٹویٹ کیا تھا ڈائری میں درج قائداعظم کے خیالات عوام کے سامنے لائیں جائیں۔ چیئرمین سینیٹ کی طرف سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت برائے پاکستان صوبائی سول سروسز اسوی ایشن میں نمائندگی کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ طارق محمود نے کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1954کی قانون ساز اسمبلی جب تحلیل کی گئی تھی تب رولز بنائے گئے تھے جو صرف پاکستان میں بنائے گئے ہیں اور معاہدے کئے تھے جو اسٹا کوڈ میں بھی نہیں ملتے۔صوبوں کو کنٹرول کرنے کیلئے وفاق سے صوبوں میں پوسٹیں لائی گئی ایک فارمولا بنایا گیا جس میں 200 سیٹیں صوبوں میں بنتی تھیں مگر وفاق نے 2 ہزار آسامیاں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں اور تما م صوبوں میں 50 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سول سروس اصلاحات کمیٹی جس کو ڈاکٹر عشرت عباد دیکھ رہے ہیں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویڑن نے کہا کہ 1935کے ایکٹ کو 1947میں اختیار کیا گیا تھا یہ معاملہ اسلا م آباد ہائی کورٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا جسے جائزہ لینے کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اگر صوبوں اور وفاق میں کوئی جھگڑا ہے تو متعلقہ صوبہ وفاق سے اٹھا سکتا ہے اور معاملے کو دیگر عدالتوں میں بھی اٹھایا گیا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے تمام کیسز کی تفصیلات اور سیکرٹری قانون و انصاف کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا تاکہ معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا جا سکے۔ قائمہ کمیٹی نے سینیٹر میاں رضا ربانی کے ایجنڈے کو اٴْن کی عدم شرکت کی وجہ سے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ کمیٹی کے آج کے اجلا س میں سینیٹر ز سیمی ایزدی، ڈاکٹر اشوک کمار، انور لال دین، ولید اقبال اور میر کبیر احمد محمد شاہی کے علاوہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان، اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویڑن ڈاکٹر مسعود اختر، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویڑن حماد شمیمی، ایڈیشنل سکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اختر جان وزیر، ممبر نیپرا، ڈپٹی ڈرافٹ مین وزارت قانون و انصاف اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More