The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ایجنسز کے نمائندوں پر مشتمل جےآئی ٹی صرف مسلم لیگ (ن) کے لیے تشکیل دی گئی ہے … کون ہے جس کے لیے نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو، جس کے لیے مانیٹرنگ ججز لگائے گئے … مزید

9

کون ہے جس کے لیے نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو، جس کے لیے مانیٹرنگ ججز لگائے گئے ہوں: مریم نواز

Hassan Shabbir حسن شبیر
منگل ستمبر
21:18

لاہور(اردو پوائنٹ- اخبارتازہ ترین 15ستمبر2020ء) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنماء مریم نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جے آئی ٹی میں ایجنسزز مسلم لیگ(ن) کے لیے ہی شامل کی گئی تھی، ملک میں کس کےلیے جوڈیشل تحقیقاتی ٹٰیم میں ایجنسز کے افرادکوشامل کیا جاتا ہے ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر اپنے ایک پیغام میں انکا کہنا تھا کہ بتاؤ کسی ایک کا نام جس کے لیے ایجنسیز پر مشتمل JIT بنی ہو ، جس کے لیے نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو، جس کے لیے مانیٹرنگ ججز لگائے گئے ہوں ، جس نے بیٹی سمیت عدالتوں میں 150سے زائد پیشیاں بُھگتی ہوں؟جناب چیف جسٹس کیا آپ اس بیرونی دباؤ کے بارے میں عوام کو کچھ بتائیں گے کہ کون انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے اور کس کے سامنے جج صاحبان بے بس ہیں؟ان کا مزید کہنا تھا کہ جج ارشدملک کی ویڈیو اور اعترافی بیان بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہےلیکن انصاف ملنا محال ہو چکا ہے ۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ مریم نواز کا یہ ردعمل العزیزیہ ریفرنس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف حاضری سے مثتثیٰ کی درخواست کو مسترد کرنے پر سامنےآیا ہے، جبکہ فاضل عدالت نےحکم جاری کیا کہ  میاں نواز شریف کو گرفتار کر کےعدالت میں پیش کیا جائے،فاضل عدالت نے ریماکس بھی دئیے ہیں کہ میاں نواز شریف کی سرجری بظاہر نظرنہیں آ رہی، بیماری کے متعلق بھی ان کو شبہات ہیں،جبکہ مسلم لیگ کی قیادت نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور فیصلوں کا بھی احترام کرتے ہیں لیکن میاں نواز شریف صحت یاب ہوکر ہی ملک میں واپس آئیں گے۔پاکستان میں بھی ان کی طبعیت کے بارے میں حکومتی اہلکار تصدیق کرچکے ہیں جبکہ سروس ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹرزنے بھی ان کی بیماری کی تصدیق کی تھی ۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More