The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اپوزیشن والے اپنے قائدین کی کرپشن کو بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر اور کورونا کے بعد اب فیٹف پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا، کورونا کے … مزید

6

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے اپنے قائدین کی کرپشن کو بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر اور کورونا کے بعد اب فیٹف پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا، کورونا کے خلاف موجودہ حکومت کی حکمت عملی کی کامیابی کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، ہم نے اپنے عوام کو وبا سے بچائو کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ بھی فراہم کیا، خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عناصر کو عبرتناک سزا دی جانی چاہئے، خارجہ تعلقات کے حوالہ سے قوم کے بنیادی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، کشمیر کے حوالہ سے بھارت سنگین غلطی کا مرتکب ہوا ہے، کشمیری عوام کو جب بھی موقع ملا وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، غربت کے خاتمہ اور شہروں و زراعت کی ترقی کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کیا۔ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں موجودہ حکومت کی کامیابی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم پر بھی دبائو تھا کہ یورپ کی طرح یہاں سخت لاک ڈائون کیا جائے لیکن ہمارا مؤقف تھا کہ پاکستان کے حالات ان ممالک سے بہت مختلف ہیں، اگر سخت لاک ڈائون کر دیا جاتا تو ہمارے غریب طبقہ، روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں اور کچی آبادیوں کے مکینوں کیلئے زندگی اجیرن ہو جاتی۔ بھارت میں نریندر مودی نے اس دبائو میں آ کر سخت لاک ڈائون کا غلط فیصلہ کیا اور 4 گھنٹے کے نوٹس پر کرفیو لگا دیا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مؤثر اور مربوط حکمت عملی کے تحت بروقت سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج بھارت کی معیشت دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ معیشتوں میں شامل ہے جبکہ ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے بہتر حکمت عملی کے تحت وبا کو پھیلنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کے غریب طبقہ کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے، ہماری اس کامیاب حکمت عملی کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے، ہم کورونا سے نکل گئے ہیں تاہم ہمیں ابھی بھی احتیاط برقرار رکھنا ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام عمر محنت کی اور دبائو میں بھی کام کرنا سیکھا ہے، جدوجہد اور قربانی کے بغیر کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا، محنت اور جدوجہد انسان میں دبائو میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، اگر میں سخت لاک ڈائون کے حوالہ سے دبائو میں آ جاتا تو پاکستان میں بھی کورونا کے حوالہ سے حالات بہت خراب ہوتے۔ اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی کے حوالہ سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، یہ بہت مشکل وقت تھا کیونکہ ڈیفالٹ کے دورس اثرات مرتب ہونے تھے، عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ جاتا اور سرمایہ کاری اور نمو رک جاتی۔ انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن میں واویلا کرنے والے اپنے دور حکومت میں ملک کو کنگال کرکے گئے، یہ جمہوری اپوزیشن نہیں بلکہ ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا یہ ہے کہ کس طرح اپنے لیڈرز کی کرپشن کو بچایا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار کی ایک کمزوری ہے جس سے انہیں نقصان ہوتا ہے اور مخالفین فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ میڈیا پر آ کر اور شہباز شریف کی طرح اشتہارات کے ذریعے اپنی تشہیر نہیں کرتے اس لئے انہیں ہدف بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کرپٹ نہیں ہیں، وہ ایک مشکل حکومت کو چلا رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں پولیس اور بیورو کریسی کو سیاسی بنا دیا تھا، ان حالات میں ٹیم بنانا ان کیلئے ایک مشکل کام تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ عثمان بزدار کی حکومت مکمل ہو تو پنجاب میں غربت کم اور ترقی کا عمل تیز ہو۔ پولیس افسران کی تبدیلیوں کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حتمی طور پر لوگوں کی جانب سے سوال یہ نہیں ہو گا کہ کتنے عہدیدار تبدیل کئے گئے بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ صوبہ میں کتنی بہتری آئی ہے، اس طرح کی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی، یہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے، موجودہ آئی جی کارکردگی دکھائیں گے تو عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اوپر کی سطح پر کرپشن 90 دن میں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا آج چیلنج کرتا ہوں کہ کابینہ میں کسی نے کرپشن نہیں کی، باقاعدہ رپورٹ لیتا ہوں، نچلی سطح کی کرپشن لوگوں کو تنگ کرتی ہے جبکہ اوپر کی سطح کی کرپشن ملک تباہ کر دیتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملکی تاریخ کا سب سے بااختیار لوکل گورنمنٹ کا سسٹم لائے ہیں، پنجاب میں ویلج کونسل کے الیکشن ہوں گے اور فنڈز گائوں کی سطح پر جائیں گے، جب منتخب میئر اپنے شہر کو ملک کی طرح چلائے تو تب ہی مسائل حل ہوں گے، اس طرح نیا پاکستان بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے بعد سارے سٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھے، این سی او سی کی طرح بڑے مسائل حل کرنے پر اتفاق طے پایا ہے، ان تمام کاموں کیلئے تین سال کی مدت متعین کی گئی ہے اور یہ کام اپنی مقررہ مدت میں مکمل کئے جائیں گے، کراچی پاکستان کی گروتھ کا انجن اور مالیاتی کیپٹل ہے، اس کی ترقی ہماری ترجیح ہے۔ موٹروے واقعہ کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس پر بہت صدمہ ہوا، اسی طرح قصور کا افسوسناک واقعہ بھی رونما ہوا تھا، اس طرح کے سانحات صرف پولیسنگ سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے دیگر پہلو بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے انسداد کیلئے ملوث عناصر کا ریکارڈ مرتب کرنے اور سخت سزائوں کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عناصر عبرتناک سزا کے مستحق ہیں، انہیں سرعام پھانسی دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے افراد کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہئے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم کو صرف پولیسنگ کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا بلکہ پورے معاشرے کو ان کی روک تھام کیلئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ ان کے لیڈرز کی کرپشن کو تحفظ ملے اس مقصد کیلئے این آر او چاہتے ہیں، وہ قوم کا سوچنے کی بجائے ہر معاملہ پر حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں لیکن انہیں کسی صورت این آر او نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر، کورونا اور اب فیٹف کے معاملہ پر بلیک میل کیا جا رہا ہے، قوم کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر فیٖٹف کے مسئلہ پر پاکستان کو بلیک لسٹ کیا گیا تو اس پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی جس کا معیشت کو بہت نقصان پہنچے گا، اب صورتحال قوم کے سامنے ہے، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے معاملہ پر ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے بنیادی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے، ہر حکومت اور ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے، ہمارے سامنے صرف ایک سوچ ہے کہ فلسطین کے عوام کا مستقبل کیا ہو گا، قائداعظم نے فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے، کشمیری عوام کو جب موقع ملے گا وہ پھر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جس طرح کشمیر کے مسئلہ اور بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے بھارت کو اس کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کریں گے، اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات کو بھی عالمی فورم پر اٹھائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے، چین نے اپنے غریب طبقات کو جس طرح غربت سے نکالا ہے وہ دنیا کیلئے ایک مثال ہے، مدینہ کی ریاست کا ماڈل بھی یہی ہے کہ غریب طبقات کو غربت سے نکال کر ان کا معیار زندگی بلند کیا جائے، جس معاشرے اور ملک میں غریبوں کا احساس ہوتا ہے وہاں برکت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بڑے شہروں کے انتظام اور زراعت کے شعبہ کی ترقی کے کامیاب تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More