The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں نیب کے 38 میں سے 34 قوانین میں ترمیم کا کہا، عمران خان … کورونا کے خلاف ہمارے کردار کی عالمی ادارہ صحت بھی تعریف کر رہا ہے ،امید تھی اپوزیشن … مزید

10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے سلسلے میں کی جا رہی قانون سازی کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور نیب کے 38قوانین میں سے 34میں ترمیم کی بات کی، کورونا کے خلاف ہمارے کردار کی عالمی ادارہ صحت بھی تعریف کر رہا ہے ،امید تھی اپوزیشن ہماری تعریف کرے گی ، میں نے اپوزیشن کا رویہ دیکھا تو اپوزیشن کی قیادت کے حوالے سے میرے خدشات درست ثابت ہو گئے،ایف اے ٹی ایف پاکستان کے لیے ہے، ہمیں کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں ،اپوزیشن کو تھوڑی سی تعریف تو کردینی چاہیے تھی ، اپوزیشن کو پاکستان کی بہتری کی کوئی فکر نہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی، کرپشن کے خاتمے کی بات کریں تو یہ کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے ،کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرونگا ،موٹروے سانحہ پر پورا ملک ہل گیا، اس حوالے سے قانون منظور کیا جائے۔

(جاری ہے)

بدھ کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر سربراہی اجلاس میں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایوان میں قانون سازی میں مدد کرنے پر حکمران اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے موٹر وے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اس کے لیے ایک قانون سازی کی جائے تاکہ آگے سے ناصرف ہماری خواتین بلکہ بچوں کو بھی تحفظ ملے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس پر تین طرفہ کام کریں، اول چیز تو یہ کہ سیکس کرمنل کی رجسٹریشن کی جائے اور ان کا ڈیٹا بیس بنایا جائے کیونکہ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے اور دنیا کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ سیکس کے مجرمان اپنے جرم کو دہراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مفرور مجرم پہلے بھی گینگ ریپ کر چکا ہے اور جو اسے سزا دی گئی تھی وہ عبرتناک نہیں تھی کیونکہ اس نے پھر یہی جرم کیا۔عمران خان نے کہا کہ یہ دو تو وہ جرائم ہیں جو رپورٹ ہوئے، بیچ میں ہو سکتا ہے کہ اس نے کتنے ہی ایسے جرم کیے ہوں جو رپورٹ نہیں ہو سکے اور ہمیں ہمیشہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ ہمیشہ بہت کم تعداد میں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے جرائم کے خلاف قانون سازی کر رہے ہیں تاکہ انہیں عبرتناک سزائیں دی جا سکیں تاکہ وہ یہ کام کرتے ہوئے خوفزدہ ہوں اور جلد ہم بل پیش کریں گے۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کے جرائم کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے اور اسی لیے ہم گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکمت عملی بنا رہے ہیں تاکہ انہیں عدالت میں اس مجرم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہماری حکومت کی وجہ سے نہیں آئے ہیں، یہ ہمیں وراثت میں ملا ہے اور سب کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ اس کی بلک لسٹ میں آنے کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ملک کا دنیا کے دیگر ممالک سے مالی معاملات منقطع ہو جاتے ہیں اور ہمارا ملک پہلے سے ہی مشکل حالات میں تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر اس کا بڑا مسئلہ تھا۔انہوںنے کہاکہ دو سال قبل ہمارے جس سطح پر زرمبادلہ کے ذخائر تھے اس سے کرنسی پر اثر پڑتا ہے اور ہ سب جانتے ہیں کہ جیسے جیسے روپیہ مہنگا ہوتا ہے تو امپورٹس مہنگی ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم مشکل حالات سے نکل رہے ہیں، ہم جس طرھ سے کووڈ سے نکلے اس کی کسی کو امید نہیں تھی کیونکہ جب ایک ملک کی معیشت بند ہوجاتی ہے تو اس کا کیا اثر ہوتا ہے یہ ہم ہندوستان کو دیکھ سکتے ہیں جن کی کورونا کی وجہ سے جی ڈی پی 24فیصد نیچے جا چکی ہے اور اگر ہم پر بھی اسی طرح کا دباؤ پڑتا تو ہمارے بہت برے حالات ہوتے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے خلاف ہمارے کردار کی عالمی ادارہ صحت بھی تعریف کر رہا ہے اور مجھے امید تھی کہ اپوزیشن ہماری تعریف کرے گی لیکن جو میں نے آج اپوزیشن کا رویہ دیکھا تو اپوزیشن کی قیادت کے حوالے سے میرے خدشات درست ثابت ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کو اس لیے منظور کرے گی کیونکہ یہ پاکستان کے لیے ہے، ہمیں کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں ہے اور انہیں تھوڑی سی تعریف تو کردینی چاہیے تھی۔عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے مذاکرات میں اپوزیشن نے جو کردار ادا کیا اس کے بعد میرا ماننا ہے کہ پاکستان اور ان کی قیادت کے مفادات بالکل الٹ ہیں، انہیں پاکستان کی بہتری کی کوئی فکر نہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے نیب کے قانون میں 38 شقوں میں سے 34 میں ترمیم کی بات کی اور 34 ترامیم کا مطلب نیب کے قانون کو دفن کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ 38 میں سے 34 ترامیم کا مقصد ہے کہ نیب کو دفن کر دو تو انہوں نے ایف اے ٹی ایف کو اپنے کرپشن کے کیسز کو بچانے کے لیے استعمال کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ سب لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ منی لانڈرنگ کیا ہوتی ہے ،منی لانڈرنگ وہ ہوتی ہے کہ جو پیسہ ناجائز طریقے سے بنایا جاتا ہے اسے بیرون ملک بھجوا دیا جاتا ہے ،یہ صرف پاکستان میں نہیں ہندوستان سمیت تیسری دنیا کے کئی ممالک کا پیسہ لندن سمیت دیگر ممالک میں پڑا ہوا ہے ،اس منی لانڈرنگ سے غریب ممالک کا ایک ہزار ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے غریب ممالک سے امیر ممالک میں پہنچ جاتا ہے ،اس طرح ترقی یافتہ ممالک زیادہ امیر ہوجاتے ہیں اور غریب ممالک کے زخائر میں کمی ہوجاتی ہے ،ایسے ہی پیسے سے مئے فے فلیٹس جیسے قیمتی گھر خریدتے جاتے ہیں وزیراعظم نے کہاکہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکہ کی رپورٹ ہے کہ ہر سال دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ سالانہ ہوتی ہے،اگر ہم سالانہ دس ارب ڈالر ہی روک لیتے تو بیرونی ممالک سے قرض نہ لینا پڑتا ،کسی نے نہیں پوچھا کہ بیرون ملک جائیدادیں کیسے بنائی گئیں ،میں نے معاملہ اٹھایا تو مجھے میرے 2002ء کے فلیٹ پر مجھے اس لئے لے کر گئے کیونکہ انکا پاناما کیس کو اٹھایا ہوا تھا ،ایک طرف نواز شریف کے لندن کے مہنگے ترین فلیٹ دوسری طرف آصف زرداری کی وہ پراپرٹیز جو انہوں نے دوسروں کے نام پر لے رکھی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پہلے یہ ادارے تباہ کرتے ہیں، حدیبیہ پیپرز کے حوالے سے اسحاق ڈار نے خود اعدادو شمار دیئے گئے ہیں ،پاکستان میں قرض 6 ارب ڈالر سے 30 ارب ڈالر تک دس سالوں میں ان حکومتوں نے پہنچایا ،ہم نے ان کا لیا ہوا قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لیا، ایسا نہ کرتے تو ملک کیسے چلتا ،ہم کرپشن کے خاتمے کی بات کریں تو یہ کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے ،مجھے ایوان میں تقریر تک نہیں کرنے دیتے، آج اپوزیشن موجود نہیں اس لئے تقریر بھی کررہا ہوں ،انہون نے اپوزیشن کا نام صرف اپنی کرپشن بچانے کا رکھ لیا ہے ،آپ کو الیکشن پر اعتراض ہے تو جو مرضی حلقہ کھلوا لیں ،اسحاق ڈار کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے ان کے والد کی سائیکل کی دکان نہیں بلکہ مرسڈیز کا شو روم تھا ،نواز شریف کو دیکھیں تو لگتا نہیں یہ گوالمنڈی میں پلا بڑھا نہیں بکمنگ پیلس میں بڑھے ۔ انہوںنے کہاکہ کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرونگا ۔سپیکر قومی اسمبلی نے بھی قوانین کی منظوری پر ارکان کا شکریہ ادا کردیا ،سپیکر نے وزیراعظم کی تقریر کے ساتھ ہی مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More