The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماوٴں کے بیانیہ اور عمل میں فرق ہے،حافظ حسین احمد

10

Umer Jamshaid عمر جمشید
بدھ ستمبر
18:48

اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماوٴں کے بیانیہ اور عمل میں فرق ہے،حافظ حسین ..
جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 ستمبر2020ء،نمائندہ خصوصی،طارق مجید
کھوکھر) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد
نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماوٴں کے بیانیہ اور عمل میں فرق
ہے،ان ہاوٴس تبدیلی کی باتیں بعض اپوزیشن رہنماوٴں کے اپنے ہی بیانیے کے
خلاف ہے، کل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن
کوروایتی انداز سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہونگے۔

(جاری ہے)

حافظ حسین احمد نے کہاکہ
اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا یہی موقف ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں بدترین
دھاندلی کی گئی اور یہ حکومت دھاندلی کے ذریعے قوم پر مسلط کی گئی ہے لیکن
اس بیانیے اور موقف پر دو سالوں کے دوران میدان میں صرف جے یو آئی ہی نظر
آئی جے یو آئی کی طرح اگر اپوزیشن کی تمام جماعتیں میدان میں نکلتیں تو آج
حالات مختلف ہوتے، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں
بیانیے پرتو متفق ہیں لیکن اب عملی میدان میں بھی تمام جماعتوں کو متفق ہو
نا ہوگاتاکہ اس حکومت کو گھر بھیجا جاسکے اگراپوزیشن جماعتیں کسی متفقہ
لائحہ عمل پر متفق نہیں ہوں گی تو حکومت کا یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہیں کوئی
خطرہ نہیں اس لیے اس بار کل جماعتی کانفرنس میں روایتی انداز سے ہٹ کر
فیصلے کرنے ہونگے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما ان ہاوٴس
تبدیلی کی باتیں کررہے ہیں جوکہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ ن کے اپنے
ہی بیانیے ”ووٹ کو عزت دو“کے خلاف ہے کیوں کہ ان ہاوٴس تبدیلی کا مطلب اس
اسمبلی کو جائز قرار دینا ہوگا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2018ء کے
انتخابات ٹھیک ہوئے تھے، جے یو آئی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت کو
اپوزیشن ناجائز قراردے چکی ہے تو ان ہاوٴس تبدیلی سے منتخب ہونے والی حکومت
کو کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے درحقیقت ان ہاوٴس تبدیلی کی باتیں
اپوزیشن جماعتوں کے اپنے ہی بیانیے کے منافی ہے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ
اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما مصلحت اور مصالحت کا شکار ہوکر میثاق جمہوریت
کے بجائے میثاق مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جے یو آئی ترجمان کا
کہنا تھا کہ ہم توقع کرسکتے ہیں کہ اس بار کل جماعتی کانفرنس بارآوار ثابت
ہوگی اور اپوزیشن جماعتیں ایک موقف اور ایک انداز سے میدان میں آئیں گی
تاکہ اپوزیشن کا اتحاد برقرار رہے اور مسلط شدہ حکومت کو گھر بھیجا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More