The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

آئین پارلیمنٹ کی بلادستی، انسانی سربلندی، قوموں اور طبقات میں برابری چاہتا ہے ،سیکیورٹی اسٹیٹ بنیادی حقوق سے انکاری ہے، عبدالمالک بلوچ … عمران سلیکٹیڈ خان آپ نے ایمپائر … مزید

24

راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک نے کہا ہے کہ آئین پارلیمنٹ کی بلادستی، انسانی سربلندی، قوموں اور طبقات میں برابری چاہتا ہے ،سیکیورٹی اسٹیٹ بنیادی حقوق سے انکاری ہے۔اپوزیشن کی حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے زیر اہتمام دوسرا عوامی جلسہ اتوارکوباغ جناح میںہوا،جس میں عوام کا سمندر امڈ آیا، پیپلز پارٹی نے شرکا کیلئے 50 ہزار کرسیاں لگائی ہیں مگر گرائونڈ کھچا کھچ بھر گیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنمااورسابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا آئین پارلیمنٹ کی بلادستی، انسانی سربلندی، قوموں اور طبقات میں برابری چاہتا ہے مگر سیکیورٹی اسٹیٹ بنیادی حقوق سے انکاری ہے، ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کثیرالقومی ملک ہے، اس حیثیت کو مانو، ریاست انکاری ہے،سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کے بجائے بندوق کو بالادست سمجھتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس سیکیورٹی اسٹیٹ نے میڈیا اور عدلیہ کو مقید بناکر رکھا ہے، بلوچستان میں آپ 5 آپریشن کرچکے ہیں، فاٹا میں آپ کیا کر رہے ہیں، پختونخوا میں کیا کر رہے ہیں، ڈکٹیٹر نے بلوچستان میں آگ لگادی،اکبر بگٹی کے گھر پر حملہ کیا، وہ پہاڑوں میں چھپ گیا تو اس کو وہاں شہید کردیا گیا۔عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آئین اجازت نہیں دیتا کہ آپ لوگوں کو لاپتہ کرکے لاشیں پھینک دیں، آپ بلوچستان میں گولی سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تاہم گولیوں سے دوریاں اور نفرتیں بڑھ جاتی ہیں،بلوچستان میں مذاکرات کا سلسلہ نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس کو آگے لیکر جائیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلی پنجاب حکومت نے تمام پبلک یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے طلبہ کیلئے کوٹہ رکھا تھا اور ان کے اخراجات بھی ادا کیے جارہے تھے۔ موجودہ حکومت نے یہ کوٹہ ختم کرکے بچوں کو نکال دیا،یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے رہنمااور سابق وزیراعلیٰ کے پی کے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ عمران سلیکٹیڈ خان آپ نے ایمپائر کو ساتھ ملاکر دھرنا دیا تھا، ہم پاکستان کے عوام کو ساتھ ملاکر تحریک چلا رہے ہیں۔ ہم اسلام آباد آکر آپ سے کہیں گے کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ سلیکٹڈ کہتا ہے کہ اب نیا عمران خان سامنے آئے گا،ہم نے نیا پاکستان دیکھ لیا، اب نئے عمران سلیکٹڈ خان بھی دیکھ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ کہتا تھا پاکستان کی معیشت ٹھیک کردوں گا۔ یہاں ڈالروں کا سیلاب، ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دیں گے۔ آخر میں کٹے، بکری، مرغی اور انڈوں پر آگئے۔جمعیت اہلحدیث کے سربراہ حافظ ساجد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہا جاتا ہے اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے کیلئے تحریک چلا رہی ہے۔ اپوزیشن آپ کے چینی، گندم، بجلی، انڈے اور گیس چوروں اور بکسہ چوروں کے خلاف نکلی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی نے وہ وقت دیکھا کہ فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، ان کے سامنے اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو فتح کیا۔ ساجد میر نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، پولنگ ایجنٹس کو دھکے دے کر باہر نکالا گیا۔ آر ٹی ایس بند کرکے نتائج تبدیل کیے گئے۔شاہ اویس نورانی نے کہا کہ عمران خان کو گولڈ اسمتھ کے گھر بھیج کر چھوڑیں گے۔ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ آٹا چینی کے سب سے بڑے چور جہانگیرترین اور خسرو بختیار ہیں، قوم کا آٹا اور چینی چوری کرنے والے عمران خان کے فرنٹ مین ہیں۔شاہ اویس نورانی نے کہا کہ کراچی میں جن لوگوں کو جتوایا گیا وہ تو پولنگ کے بعد گھر جا کر سوچکے تھے۔شاہ اویس نورانی نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے گرین لائن منصوبے کو اس لیے روکا گیا کہ اس پر نوازشریف کی تختی لگی تھی۔جمعیت علمائے پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولاناشاہ اویس نورانی جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔ جو لوگ انتخابات کی رات ہار کر سوگئے تھے، صبح ان کو جگاکر بتایا گیا کہ پپو اٹھ جائیں، آپ جیت گئے ہیں۔اویس نورانی نے کہا کہ اب پی ڈی ایم کے کارکنان اپنے ووٹ کی حفاظت کریں گے اور بیلٹ کے ذریعے بلٹ کو شکست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد کراچی کے لیے گرین لائن بس منصوبے کا تحفہ دیا۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت نے اس کو روک دیا کیوں کہ اس پر تختی نواز شریف کی لگی ہوئی ہے۔قبل ازیں جلسہ میں شامل بعض لوگوں نے مغرب کی اذان ہوتے ہی پنڈال میں چادریں بچھا کر نماز ادا کی۔جلسے کی سیکیورٹی کیلئے 6 ہزار اہل کاروں کو تعینات کیا گیاتھا،پریڈی اسٹریٹ سمیت ملحقہ شاہراہیں کنٹینر لگا کر بند کردی گئی تھیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے،پولیس کے ساتھ رینجرزنے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دیئے ۔کراچی میں ہونے والے باغ جناح کے جلسے کیلئے 180 فٹ لمبا، 60 فٹ چوڑا اور 20 فٹ اونچا اسٹیج تیار کیا گیا۔ اسٹیج کے 3 حصے تھے، مرکزی اسٹیج کا درمیانہ حصہ 100 فٹ لمبا اور 20 فٹ اونچا تھا۔ اسٹیج پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین بیٹھے۔مرکزی اسٹیج کے ساتھ ہی دونوں اطراف 40 فٹ لمبائی اور 10 فٹ اونچائی والے 2 اسٹیج صوبائی اور ضلعی قیادت کیلئے مخصوص کیاگیا تھا، خواتین شرکاء جلسہ گاہ کے سب سے آگے حصہ میں تھیں اور ان کیلئے راستہ بھی علیحدہ بنایاگیاتھا، گرائونڈ میں وی آئی پیز کیلئے داخلے اور ان کی گاڑیوں کی پارکنگ اسٹیج کے قریب رکھیتھیے۔شرکا کیلئے پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے گرائونڈ میں مختلف مقامات پر سبیلیں بھی لگائی گئی تھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More