The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کاسندھ ہائی کورٹ کا دورہ … وکلاء سے ملاقاتیں ،27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ہونے والے ’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ میں شرکت کی دعوت … مزید

4

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 16 ستمبر2020ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ کا دورہ کیا ،وکلاء سے ملاقاتیں، 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ہونے والے ’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر اسلامک لائرز موومنٹ پاکستان کے صدر خان افضل خان،شعاع النبی ، عبد الصمد خٹک،عثمان فاروق، شاہد علی خان ، طلعت یاسمین ،روبینہ جتوئی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں اوروکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تحریک شروع کی ہوئی ہے اسی سلسلے میں 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر عظیم الشان حقوق کراچی مارچ منعقد کیا جائے گا،کراچی پیکیج پر سیاست کی جارہی ہے اورکراچی کے مسائل حل کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے ،ہمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں سے کراچی کے لیے کسی خیر کی توقع نہیں ہے جس طرح ماضی میں 162ارب روپے کے پیکیج کا آج تک پتا نہیں چلا اسی طرح 1100ارب روپے کاپیکیج بھی کراچی کے عوام کے ساتھ سراسر دھوکا اور فراڈ ہے ،1100ارب روپے کاکراچی پیکیج محض اعلان کے سوا کچھ نہیں ،حکومتیں کراچی کو لندن ، پیرس اور نیویارک بنانے کے دعوے کرتی ہیں لیکن کراچی کے عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ کراچی کو کراچی ہی رہنے دیا جائے ،ایسا شہربنایا جائے جوکہ عبد الستارافغانی اور نعمت اللہ خان کے دور میں تھا جس میں کراچی کا پوراانفراسٹرکچر ٹھیک تھااور کراچی ٹرانسپورٹ کا ادارہ بھی موجود تھا۔

(جاری ہے)

ہم ایسا کراچی چاہتے ہیں جو امن وامان کی مثال ہو جہاں کرپشن اورلوٹ مار نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کا مقصد کراچی کو ٍاس کا جائز اور قانونی حق دلانا ہے ،اس کے لیے کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے ،کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ نہیں تین کروڑ تک پہنچ گئی ہے اس لیے یہاں کی آبادی صحیح اعدادو شمار کے مطابق ظاہر کی جائے اور پھر اصل آبادی کے مطابق ہی کراچی کی منصوبہ بندی کی جائے ،جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی میں رہنے والے ہر فرد اور ہر لسانی اکائی کے لیے ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی میں رہنے والے تمام زبان بولنے والوںاور تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے جدوجہد کررہی ہے ،اس لیے اسے لسانی رنگ نہ سمجھا جائے ،وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے 600ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے بلکہ اس سے زیادہ کراچی سے وصول کرلیے ہیں سندھ حکومت کراچی سے 90فیصد ریونیو حاصل کرتی ہے لیکن کراچی پر خرچ نہیں کرتی ۔جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی کے حقوق کے لیے ہے، ہم کراچی کا حق مانگ رہے ہیں کوئی بھیک نہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلامک لائرز موومنٹ اور وِل فورم کی خواتین اورپوری وکلاء برادری پاکستان کی آئینی ،قانونی اور جمہوری جدوجہد میں جماعت اسلامی کے تحت حقوق کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کرے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کے الیکٹرک نے نیپرا کو مڈ ٹرم ٹیرف میں اضافے کی درخواست دی ہے جبکہ پہلے ہی عمران خان ہر ماہ ایک دو روپے اضافہ کر کے کے الیکٹرک کو نواز رہے ہیں اور اب کے الیکٹرک کے ٹیرف میں مزید اضافہ کی بات کی جارہی ہے ،تمام حکومتی جماعتیں کے الیکٹرک کو مکمل سپورٹ کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور نیپرا میں کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑرہی ہے ،کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافہ نہیں بلکہ ان کا لائسنس منسوخ کیاجائے ۔ اس وقت وزیر اعظم ،اسد عمر سمیت ان کی پوری ٹیم اربوںروپے کے نادہندہ ابراج گروپ کو فرار کرانا چاہتی ہے ، پی ٹی آئی کو ابراج گروپ نے الیکشن میں فنڈ دیا ہے اس کی قیمت کراچی کے عوام سے وصول نہیں کرنے دی جائے گی ، ایک ایک روپیہ قومی خزاے میں آنا چاہیئے جس نے بھی ابراج گروپ کو فرار کا موقع دیا جماعت اسلامی اس کا گھیراؤ کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ نیپرا کے موجودہ چیئرمین سے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف ایکشن لیں گے، کے الیکٹرک کے سسٹم ہیک ہونے کی صاف وشفاف تحقیقا ت کرائی جائے کہ سسٹم ہیک ہوا ہے یا ہیک کرایا گیا ہے تاکہ ان کا فارنزک آڈٹ نہ کرایا جاسکے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More