The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

امریکا میں 70برسوں بعد ایک خاتون کی سزائے موت پر عمل … موت کی سزا پر عمل درآمد زہریلے ٹیکے کی مدد سے کیا جائے گا،امریکی محکمہ انصاف

12

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) امریکی محکمہ انصاف نے قتل کے جرم میں قید ایک مجرمہ کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔ موت کی سزا پر عمل درآمد زہریلے ٹیکے کی مدد سے کیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سات دہائیوں میں پہلی بار بعد جس خاتون مجرمہ کو موت کی سزا دی جائے گی، اس کا نام لیزا مونٹگمری ہے۔ اس مجرمہ پر 2004 میں ایک حاملہ خاتون کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ اس خاتون کو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت رواں برس آٹھ دسمبر کو دی جائے گی۔لیزا مونٹگمری نے سن 2004 میں حاملہ خاتون بوبی جو سٹینٹ کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا تھا۔ اس قتل کی واردات کو انتہائی بھیانک قرار دیا گیا تھا۔ مقتولہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ قاتلہ مونٹگمری نے کچن میں استعمال ہونے والی چھری سے مقتولہ کے رحم میں سے بچہ نکال کر اپنے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے لے گئی کہ وہ اس کا اپنا بچہ تھا۔

(جاری ہے)

2007 میں ایک امریکی ڈسٹرکٹ عدالت نے استغاثہ کے دلائل اور شواہد کی بنیاد پر قاتلہ کو قتل اور اغوا کے جرائم سرزد کرنے پر سزائے موت کی سزا سنائی۔ وکلائے صفائی نے عدالت اور جیوری کے سامنے یہ ثابت کرنے کی بہت کوشش کی واردات کے وقت مجرمہ شدید واہمے کے نفسیاتی عارضے کے اثر میں تھی لیکن اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا گیا۔لیزا مونٹگمری کی وکیل کیلی ہنری کا کہنا تھا کہ مجرمہ اپنے جرم کی ذمہ داری ضرور قبول کر چکی ہے لیکن وہ ذہنی طور پر بیمار ہے اور اس بنیاد پر اس کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا کہ مجرمہ کا بچپن خاصا تکلیف دہ رہا تھا اور یہ بھی اس کی بیماری کو شدید تر کرنے کی وجہ رہی ہے۔ انہوں نے اپنی مکلہ کو دسمبر میں سزائے موت پر دینے کے اعلان کو غیر منصفانہ فعل قرار دیا۔ خاتون وکیل کے مطابق موت کی سزا کو ویسے بھی موقوف کر دینا چاہیے کیونکہ مجرمہ کے پاس رہائی کا کوئی موقع نہیں اور وہ تمام عمر جیل میں ہی رہے گی۔آخری مرتبہ 1953 میں بونی ہیڈی نامی مجرمہ کو امریکا میں موت کی سزا دی دی گئی تھی۔ ہیڈی کو سزائے موت زہریلی گیس کے چیمبر میں دی گئی تھی۔ اس طرح سڑسٹھ برس بعد ایک اور خاتون کی سزائے موت پر ڈیڑھ ماہ بعد عمل کیا جائے گا۔ امریکا میں موت کی سزا پر عمل درآمد کا سلسلہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں شروع ہوا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More