The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

افغان امن مذکرات کی کامیابی سے نہ صرف اسلامی امارت افغانستان بلکہ پوری خطہ امن کا گہوارہ بن جائیگا،رہنما جمعیت علما اسلام( نظریاتی) پاکستان

3

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 13 ستمبر2020ء) جمعیت علما اسلام( نظریاتی) پاکستان کے مرکزی امیر مولانا خلیل احمد مخلص مرکزی سینئر نائب امیر مولاناعبدالقادرلونی جنرل سیکرٹری مولانا مفتی شفیع الدین مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانامحمودالحسن قاسمی مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی نے کہا کہ افغان امن مذکرات کی کامیابی سے نہ صرف اسلامی امارت افغانستان بلکہ پوری خطہ امن کا گہوارہ بن جائیگااللہ کاشان ہے جب 11ستمبرکوعالمی دہشت گردامریکہ نائن الیون کاڈرامہ رچاکرافغانستان میں اسلامی حکومت کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ جوامریکہ کی لونڈی ہے کی چھتری کے آڑمیں افغانستان پرحملہ آور ہوئی20 سالوں سے عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے افغانستان کوراکھ کردئیے جس سے افغانستان کے ساتھ ہمسایہ ممالک بھی 20سال سے تباہی سے دو چار ہوئے 20سال بعدالحمداللہ اج مسلمانوں نے امریکہ واتحادیوں کے ذلت آمیزشکست کواپنے آنکھوں سے دیکھااورکی وبا گوتناموبے سے اپنے طیارے میں قیدیوں کوقطرلایاگذشتہ روزبگرام سے چھ قیدیوں کولی جانے کیلئے کابل طیارہ بھیجایہ اللہ کی نصرت ومددہیں انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت افغانستان میں قیام امن، مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لئے عالمی قوتوں اور افغانستاں نے سنجیدگی کامظاہرہ نہ کیا تو شاید پھر تاریخ ان کو معاف نہیں کرینگے ہے موقع کوضائع کرنے بغیرافغان امن مذکرات کے حوالے سے امن دشمن عناصرکی سازشوں کوناکام بنانے میں کردار اداکرے امن دشمن پس پردہ میں نیاتماشہ شروع خونی کھیل لگانے کی منصوں میں مصروف ہے امن عمل کی مخالفت اور الزامات اور پروپیگنڈوں کرنے کے بجائے افغان حکومت مذاکرات میں مکمل تعاون کرے بھارت اور موجودہ افغان انتظامیہ کو اپنے اپنے مفادات کے باعث امریکہ طالبان مذاکرات کی ممکنہ کامیابی نہیں چاہتے ہیں اور وہ ان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سبوتاژ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں افغان ملت پر قرآنی نظام کی نفاذ، اتحاد خودمختاری ملکی سالمیت اور عوام کے بنیادی حقوق پر متحد ہونے سے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو افغانستان میں امن کی بحالی کا قوی امکان ہے صرف وہ ممالک ان مذاکرات میں روڑے اٹکا رہے ہیں جن کے مذموم مقاصد پر زد پڑ سکتی ہے خدانخواستہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں پورا خطہ امن کے حوالے سے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے پروردہ جن ایشیوز کو لے کر نکلی ہے ظلم اور زیادتیوں کی نشاندہی نہیں نت نئی سازشی تھیوریاں گھڑی جارہی ہیں ۔جس طرح سے وہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کررہی ہے اور اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے امن معاہدے کوسبوتاژ کیاجارہا ہے اور ملک کے اندر آپریشن کے لیے راہ ہموار کیا جارہا ہے انکو ہائی جیک کرکے انکے منشور و بنیادی مقاصد سے دور لے جاکر کسی غیر ایجنڈے پرپوری کوشش کر رہئے ہیں کہ کسی بھی طرح لسانی فساد کروا دیئے قوموں کو آپس میں لڑوا دیا جائے یہ اصل میں را اور این ڈی ایس کی آخری کوشش ہے حالانکہ ان قوتوں نے افغانوں کی نسل کشی میں استعماری اورسامراجی قوتوں کے ساتھ دے کر لاکھوں افغانوں کے قتل میں برابر کے شریک رہے اور اب اپنے کئے ہوئے پرپردہ ڈالنے کے لییامریکہ کی شکست پر افغان ملت کے غمخوار بن چکے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More