The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

… اضافہ شدہ …) … الیکٹرک وہیکل و موبائل فونز مینوفیکچرنگ شعبوں میں چینی و یورپی کمپنیوں کی بھرپور دلچسپی، پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں، وزیر مملکت … مزید

8

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 ستمبر2020ء) وزیر مملکت و چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری نے کہا ہے کہ الیکٹرک وہیکل و موبائل فونز مینوفیکچرنگ شعبوں میں چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک نے بھی بھرپور دلچسپی لی ہے اور بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان دونوں شعبوںمیں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، جبکہ ہماری پالیسیوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں، جمعرات کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے موجودہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری، جامع معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور برآمدی پیداوار میں اضافے جیسے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے 5 شعبوں کو اولین ترجیحات میں رکھا گیا ہے،اقتصادی زونز ایک خوشحال اور صنعتی پاکستان کا باعث بنیں گے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نجی شعبی کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیاں مرتب کرنا ہماری ذمہ داری ہے جو یقینا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں کردار ادا کریں گی، انہوں نے بتایا کہ انکی قیادت میں سرمایہ کاری بورڈ نے پانچ شعبوں آئی ٹی انڈسٹری، ہائوسنگ و تعمیرات، فوڈ پراسیسنگ و زراعت، سیاحت اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو فروغ دینے پر اپنی بھر پور توجہ مرکوز کر رکھی ہے ، اس ضمن میں پالیسی فریم ورک کی تشہر ویب سائٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مختلف سیکٹرز میں دی جانے والی سہولیات اور مراعات کے حوالے سے ضروری آگاہی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزارتوں کے تعاون سے ہم نے حال ہی میں دو پالیسیاں مرتب کی ہیں جن میں الیکٹریکل وہیکل اور موبائل فونز کی تیاری کی پالیسی شامل ہیں۔ ان دونوں شعبوں میں چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک سے بھی دلچسپی نظر آ رہی ہے اور بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے بورڈ آف انوسٹمنت نے بہترین کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ کوویڈ۔19 کی وجہ سے جو سرگرمیاں رک گئی تھیں ان کا دوبار آغاز ہوا ہے، جس کی تازہ مثال آسٹریلوی کاروباری وفد کی آمد ہے جس نے ہمارے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا ہے۔ یہ سلسلہ اب آگے مزید بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اولین ضرورت امن و امان کی صورتحال ہوتی ہے اور گزشتہ دو سالوں میں امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ19 ایک بہت بڑا چیلنج تھا، اگر یہ نہ ہوتا تو پوری دنیا سے بڑے سرمایہ کار پاکستان آچکے ہوتے۔ وبا میں کمی کے بعد یورپ اور امریکاکی بڑی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں بھرپور دلچسپی لے رہی ہیں۔جس کے تسلی بخش نتائج آئندہ کچھ مہینوں میں نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت اقتصادی زونز کے قیام سے ایک خوشحال اور صنعتی پاکستان بنے گا۔ ان زونز میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ، بجلی اور الیکٹرانکس، کیمیکل پینٹ، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، اسٹیل اور پیکیجنگ کے شعبے میں صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ پاک چین جغرافیائی قربت ان اقتصادی زونز کی آباد کاری اور باہمی معاشی فوائدکے حصول میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ نے اقتصادی زونز کو تمام سہولیات کی فراہمی و مراعات دینے کا عمل تیز کردیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More