The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اسلام عورتوں کو گھر سے باہر جانے سے نہیں روکتا بلکہ مردوں کو لگام ڈالتا ہے، ڈاکٹر مرتضی مغل … سماجی انصاف کیلئے حکومت اور عدالتوں کو مزید فعال ہونا ہوگا۔ سینیٹر ستارہ … مزید

9

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) ایف پی سی سی آئی کی سنٹرل سٹینڈنگ کمیٹی برائے انشورنس کے کنوینئر ،ْ یونائیٹڈ انٹرنیشنل گروپ کے گروپ کنٹری منیجر ،ْ نامور کالم نگار ،ْ ڈاکٹر مرتضی مغل نے کہا کہ موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا جانا انتہائی شرم ناک اقدام ہے ایسے دہشت گرد ،ْ بلادکار اور ڈکیتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیںدینے کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے۔ قرآن مجید ہمیں کہتا ہے کہ جو کوئی دہشت گردی کرے اسے لوگوں کے سامنے سنگسار کر دیا جائے۔اور اسکے لئے رحم کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔قرآن فرماتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت جائو ،ْحکمرانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس راستے کی طرف جانے والوں کو سختی سے روکومگر ہمارے ملک میں ایسے افراد کو عزت دی جاتی ہے اور بدکاری کی تشہیر کرنے والوں کو ہم ہیرو مانتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسلام اپنے معاشرے کے مرد کو لگام ڈالتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں بے لگام مردوں نے معاشرے کی حرمت کو داغدار کر دیا ہے۔ اسلام عورتوں کو کاروبار کرنے اور باہر جانے سے نہیں روکتا بلکہ حکم دیتا ہے کہ جو مرد انہیں ایذا دیں اسلامی حکومت ان کو سخت ترین سزا دے ۔سینیٹر ستارہ ایاز نے ڈیوکام پاکستان اور ڈی ٹی این ٹی وی کے ایک مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دینے کے حوالے سے حکومتی ادارے ناکام نظر آتے ہیں، دوسری طرف پولیس تحقیقات سست روی کا شکار رہتی ہیں جس کی وجہ سے مقدمات طوالت اختیار کر جاتے اورمتعلقہ ادارے بر وقت شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کی وجہ سے ملزمان کی ضمانت ہو جاتی ہے اور بعد میں ناقص پیروی کی وجہ سے بری ہو جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی نسلوں کی تربیت میں کوتاہی کی ہے جس کے نتائج ہمیں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ڈیوکام پاکستان اور ڈی ٹی این ٹی وی کے سربراہ منیر احمد نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا گذشتہ برسوں میں حکمرانوں نے معاشرے میں ذاتی افعال سے جنسی بے راہ روی کی راہ ہموار کی ہے، غیر ملکی غیر مہذب فلموں کی یلغار، سوشل میڈیا پر چلنے والے مواد نے معاشرے کی اخلاقیات کو تباہ کیا ہے، دوسری طرف سزا کاکوئی خوف نہیں ہے، بڑے بڑے مجرم چند دنوں میں پولیس اور عدالتوں کی مہربانی سے رہا ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت حال میں جرائم کا فروغ پانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ نیشنل پریس کلب کی نائب صدر سعدیہ کما ل نے کہا کہ معاشرے سے شرم و حیا ء اور گناہ اور زیادتی کا تصور ختم ہو چکا ہے،سب کو معلوم ہے کہ تھانے بکتے ہیں اور پولیس کا ادارہ مجرمانہ ذہنیت کے افراد کی آماجگاہ بن چکا ہے، ایسے میں جرم اور جرائم پیشی افراد ہی پروان چڑھیں گے۔ اسلامی جمہوریہ میں کوئی قدر اسلامی نہیں ہے، معاشرے کے ہر فرد کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، عورت تو سب سے حقیر طبقہ بن چکی ہے۔ سماجی کارکن میرن ملک نے کہا جنسی زیادتی کرنے والوں کا نفسیاتی جائزہ بھی لیا جانا چاہئیے تاکہ اصل محرکات بھی سامنے آئیں، سماج اور قانون کے ساتھ ساتھ عورتو ں کی خود آگے بڑھ کر اپنے ٹحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔اگر ادارے کام نہیں کر رہے تو ان کے خلاف احتجاجی تحریک چلانا پڑے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More