The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کے گیارہ افسران کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی

6

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 ستمبر2020ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے )کے گیارہ افسران کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کر دی ۔ جمعرات کو عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی ۔ اس موقع پر درخواست گزار فرخ نواز بھٹی کی جانب سے سید حسنین ابراھیم کاظمی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سی ڈی اے افسران کے خلاف صحافی کے بار بار پٹیشنر بننے پر برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے درخواست گزار فرخ نواز بھٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ پٹیشنر کون ہے اور اس نے کتنی پٹیشنز فائل کیں ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پٹیشنر نے سی ڈی اے افسران کی تعیناتی کو چیلنج کیا ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جرنلسٹ کا کام ہے کہ وہ اخبار میں لکھے اس کے نام سے کتنی پٹیشنز زیر التوا ہیں ،ایسے لگتا ہے اس بینچ کے پاس ایک درجن کے قریب اس کی پٹیشنز زیر التوا ہیں،یہاں اپیلیں سول معاملات زیر التوا پڑے ہیں کیا ہمیں وہ پہلے نہیں سننی چاہئیں سی ڈی اے کے ان افسران کے حوالے سے پٹیشنر کا کیا مفاد ہی صحافی کا اپنا کام ہے اس کو وہی کرنا چاہیے،یہ بتا دیں ہمیں ایسے پٹیشنر کی پٹیشنز کیوں سننی چاہئیں کیا پہلے زیر التوا کیسز نہیں نمٹانے چاہئیں آپ جیسے قابل وکلا اور بار کی بھی ہمیں کیسز کا التوا ختم کرنے میں مدد چاہیے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس پٹیشنر کی ایک پٹیشن منظور بھی کر چکے ہیں لیکن یہ تمام سی ڈی اے کے خلاف ہی کیوں آتی ہیں ،پٹیشنر اگر صحافی ہے تو اسے خود کہنا چاہیے کہ ایسی پٹیشنز نہ آئیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ پٹیشنر کو سمجھائیں کہ بطور صحافی وہ اپنا فورم استعمال کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More