The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

احتساب عدالت نے سابق صدرآصف علی زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 ستمبر2020ء) احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔جمعرات کو احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے آصف زرداری کی 3 ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی اس موقع پر سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے ۔سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے دلائل دئیے۔سابق صدر نے پارک لین، منی لانڈرنگ اور ٹھٹھہ واٹرسپلائی کے ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستیں دائر کی ہیں۔دوران سماعت آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ پہلے ادھورا اور پھر مکمل چالان فوجداری مقدمات میں جمع ہوتا ہے، نیب آرڈیننس میں پہلے ادھورا اورپھر مکمل چالان جمع کرانے کی گنجائش نہیں، ضمنی ریفرنس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

(جاری ہے)

فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت کو ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کی وجوہات بھی بتانا ہوتی ہیں، اس عدالت نے ضمنی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا لہٰذا عدالت ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری کی طلبی کا نوٹس واپس لے۔فاروق ایچ نائیک نے تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر دلائل مکمل کئے جس کے بعد نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے اور آصف زرداری کی تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی۔مظفر عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کہیں پرکسی قانون میں نہیں لکھا کہ ضمنی ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا، فاروق نائیک نے ایک بھی قانون کا حوالہ نہیں دیا جس میں ایسا لکھا ہو، سیکشن 16 کے مطابق ایک کیس کسی دوسری جگہ منتقل بھی ہوسکتا ہے۔سردار مظفرعباسی نے کہا کہ عدالت جو طلبی کے نوٹس جاری کرتی ہے وہ عدالت کا آرڈر ہی ہوتا ہے، طلبی کے نوٹس کا مطلب ہوتا ہے کہ کیس کو عدالت نے قابل سماعت سمجھ لیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری کی 3 مقدمات میں ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج جمعہ کو سنایا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More