The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

اب پاکستانی ایک اور ویزہ کیٹگری میں بھی دُبئی جا سکتے ہیں … دُبئی حکومت نے فنکاروں، تخلیق کاروں، مصنفین کے لیے نئی ٹائپ کے ویزے کے اعلان کر دیا

12

دُبئی حکومت نے فنکاروں، تخلیق کاروں، مصنفین کے لیے نئی ٹائپ کے ویزے کے اعلان کر دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان
ہفتہ اکتوبر
13:14

اب پاکستانی ایک اور ویزہ کیٹگری میں بھی دُبئی جا سکتے ہیں
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17 اکتوبر2020ء) ٰدُبئی کی جانب سے ایک نئی طرز کے ویزے کے اجراء کا اعلان کیا گیا ہے جو دُنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ویزہ ہوگا۔دُبئی حکام کے مطابق اب کلچرل ویزے کا بھی اجراء ہو گا۔ اس مقصد کے لیے دُبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA)کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ جس کے تحت دُنیا بھر کے تخلیق کاروں، لکھاریوں، فنکاروں اور ثقافتی سرگرمیوں سے جُڑے افراد اور اداروں کو ثقافتی رہائشی ویزے دیئے جائیں گے۔ اس ثقافتی ویزے کے اجراء کا مقصد دُنیا بھر کے فنکاروں اور ثقافتی و فلمی و میوزک انڈسٹری سے جُڑے افراد کو دُبئی آنے کی ترغیب دینا ہو گا۔ تاکہ یہاں وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا دُنیا بھر میں منوا سکیں اور اماراتی ثقافتی سرگرمیوں اور میوزک و فلم انڈسٹری کو بھی ترقی ملے گی۔

(جاری ہے)

اس سکیم کی منظوری گزشتہ سال دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دی تھی۔ دُنیا بھر میں ثقافتی سرگرمیوں کی بنیادپرصرف دُبئی ہی ایسا ویزہ جاری ہوگا۔دُبئی کلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حالہ بدری نے کہا کہ اس ثقافتی ویزے کے اجراء سے تخلیقی صلاحیتوں والے افراد اور میوزک انڈسٹری کے سرمایہ کاروں کی دُبئی میں رہائش اور اپنی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے کی راہ ہموار ہو گی۔ متحدہ عرب امارات میں فن اور فنکار کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ GDRFA اور کلچر اتھارٹی کے درمیان معاہدے کے بعدفنکاروں، مصوروں اور لکھاریوں کے لیے ورکشاپس اور مختلف تقاریب کا انعقاد بھی ہوا کرے گا۔ GDRFA دُبئی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد احمد المری نے دُبئی اور امارات میں ثقافتی اور تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ اور تعاون دینے پر شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم کا بھی شکریہ ادا کیا۔ 

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More