The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

آصف علی زرداری کی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ … اسلام آباد کی احتساب عدالت میں میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس کی سماعت

8

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 ستمبر ۔2020ء) سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیاہے. اسلام آباد کی احتساب عدالت میں میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس سے متعلق سماعت ہوئی عدالت نے سابق صدرآصف علی زرداری کے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جسے کل سنایا جائے گا. سابق صدر آصف علی زرداری نے 9 ستمبر کو احتساب عدالت سے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس اور پارک لین ریفرنس خارج کرنے کی استدعا کی تھی اس سے قبل احتساب عدالت توشہ خانہ ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کر چکی ہے جس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا گیا.

(جاری ہے)

توشہ خانہ ریفرنس کے تحریری حکم نامے میں عدالت نے نواز شریف کی گرفتاری کے لیے نیب تفتیشی افسر کو ہر ممکن اقدامات کرنے کا حکم دیا عدالت نے حکم دیا تھا کہ نیب تفتیشی افسر نواز شریف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سمیت ٹھوس اقدامات کریں اور نواز شریف کے دائمی وارنٹ جاری کر کے ان کا کیس دیگرملزمان سے الگ کیا جاتاہے.

خیال رہے پارک لین ریفرنس جعلی اکاﺅنٹس کیسز میں سے ایک کرپشن کیس ہے جس میں آصف زرداری سمیت 25 شیئر ہولڈرز تھے الزام ہے کہ اس کمپنی نے 2008 میں جعلی فرنٹ کمپنی پارتھینون کے نام پر نیشنل بینک سے ڈیڑھ، ڈیڑھ ارب روپے کے دو بار قرض لئے جسے بعد میں واپس نہیں کیا گیا اور قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا. نیب کا موقف ہے کہ آصف علی زرداری قرض لے کر معاف کرانے کے اس مقدمے میں بطور صدر اثرانداز ہوئے، انہوں نے نیشنل بینک سے اپنی جعلی کمپنی کو قرض دلوایا، کیس میں نیشنل بینک کے سابق صدور سمیت مختلف گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں. خیال رہے کہ آصف زرداری پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ، پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کی طرف سے قرض میں توسیع اور اس کے غلط استعمال میں ملوث تھے. اپنے دلائل میں آصف زرداری کے وکیل ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ سابق صدر پارک لین کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں لیکن انہوں نے صدر مملکت کا منصب سنبھالنے سے قبل 2008 میں کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا. وکیل دفاع نے کہا تھا کہ نیب نے ان کے موکل کے خلاف ریفرنس دائر کرتے وقت حسب معمول تمام مالیاتی قوانین کو نظرانداز کیا انہوں نے کہا تھا کہ نیب آصف زرداری کے خلاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی لازمی منظوری‘ریفرنس کے بغیر اس کیس میں کارروائی نہیں کرسکتا تھا. انہوں نے کہا تھا کہ یہ جان بوجھ کر ڈیفالٹ (ول فل ڈیفالٹ) ہونے کا معاملہ تھا اور اسٹیٹ بینک واحد فورم تھا جو ان کے موکل کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکتا تھا تاہم نیب نے معاملہ اٹھایا اور متعلقہ مالی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس معاملے میں خود سے تحقیقات شروع کردی. اس معاملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وکیل نے نشاندہی کی تھی کہ 30 اکتوبر 2009 کو جب پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ نے قرض حاصل کیا تو صدر آصف زرداری کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں تھے بلکہ وہ پارک لین کے شیئر ہولڈر تھے انہوں نے کہا کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے آصف زرداری کا استعفیٰ قبول کرلیا تھا تاہم وہ اس معاملے کو وقتی طور پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک نہیں پہنچا سکا تھا. اس کے علاوہ گزشتہ سماعت میں نیب نے احتساب عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ پارک لین ریفرنس میں دو ملزمان سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں نیب نے قبل ازیں نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدور علی رضا اور قمر حسین کو اس کیس میں ملوث کیا تھا تاہم گزشتہ سماعت میں احتساب ادارے نے اپنی حیثیت تبدیل کی تھی اور انہیں استغاثہ کے گواہوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا. نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر خان عباسی نے احتساب عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ بینک کے دونوں سابق سربراہان ان 61 گواہان میں شامل ہیں جنہیں استغاثہ سابق صدر کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے نیب کے مطابق علی رضا نے اپنے اعترافی بیان میں دعویٰ کیا کہ اومنی گروپ کے ڈائریکٹر عبد الغنی مجید، این بی پی کے سینئر مینجمنٹ اور سابق صدر کے درمیان مڈل مین تھے کیونکہ انہوں نے قرض کی منظوری کے لیے آصف زرداری کا پیغام پہنچایا تھا ڈپٹی پراسیکیوٹر نے ریفرنس میں آصف زرداری کی بریت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پارک لین کیس میں ان پر فرد جرم عائد کرے اور استغاثہ کو ان کے اور دیگر ملزمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے اہل بنائے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More