The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ؒصوبے کے ضم اضلاع کے طلبہ اور اساتذہ کو اضافی مراعات دینے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیاجا رہا ہے، میاں خلیق الرحمن

6

منگل ستمبر
21:45

؛پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 15 ستمبر2020ء) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے کے ضم اضلاع کے طلبہ اور اساتذہ کو اضافی مراعات دینے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیاجا رہا ہے۔ ضم اضلاع کے کالجز میں جدید سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ احساس پروگرام کے ذریعے ذہین اور مستحق طلبا و طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔ ضم اضلاع کے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی دی جا رہی ہیں۔ صوبے اور خاص کر ضم اضلاع کے نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم میں 1900 اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ تعلیمی ادارے آباد کرنے سے ضم اضلاع کی پسماندگی دور ہوگی۔ نئے تعلیمی اداروں کی بجائے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو فعال کرکے تعلیم کی شرح میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہیں۔ نئے اساتذہ کی تعیناتی کالج سطح پر کی جائیگی پانچ سال تک نئے تعینات ہونے والے لیکچرارایک ہی کالج میں گزاریں گے جس سے کوئی کالج بغیر استادکے نہیں رہے گا۔ بی ایس پروگرام صوبے کے کالجز میں کامیابی سے جاری ہے۔ جبکہ بی اے بی ایس سی کے بعد صوبے کے 128 کالجز میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کا اجراء بھی کردیا گیا ہے داخلے جلد شروع ہو جائیں گے۔ خواتین اساتذہ کو درپیش مسائل کو حل کرانے کے لئے بھی ٹھوس بنیادوں پر کام جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ریڈیو کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا کہ ضم اضلاع میں کالجز میں اساتذہ اور طلبہ کی موجودگی یقینی بنائیں گے۔ احساس پروگرام کے ذریعے ذہین اور مستحق طلبہ کو مستفید کیا جارہا ہے۔ ضم اضلاع میں کالج اساتذہ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ صوبے میں اپنی ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کو فعال کردیا گیا ہے۔ کالج اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی ایٹا کے ذریعے کیا جائیگا۔ اور تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جائیگی۔ضم اضلاع میں فزیبلٹی کے بعد مذید کالجز قائم کئے جائیں گے۔ ادارے ہوں گے تو تعلیم ہوگی مگر نئے اداروں کو کھولنے سے پہلے اس کی فزیبلٹی کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں پہلی مرتبہ تبادلے ضرورت کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے جارہے ہیں۔ سفارش کلچر کے مکمل خاتمے کے لئے سخت فیصلے کئے جارہے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان بذات خود ضم اضلاع کے معاملات دیکھ رہے ہیں

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More