The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

؂ حکومت پنجاب کا فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں آلودگی پھیلانے والے بھٹہ خشت کو 7 نومبر سے دوماہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ

12

uفیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 18 اکتوبر2020ء) حکومت پنجاب کا فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں آلودگی پھیلانے والے بھٹہ خشت کو 7 نومبر سے دوماہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ، جبکہ زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے والے بھٹوں کو کام کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ دھواں چھوڑنے،کوڑا کرکٹ،پلاسٹک اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی عائد کردی گئی بھٹہ مالکان اور محنت کش پریشان ، حکومتی فیصلہ کویکطرفہ اور نادانی قرار دیدیا آن لائن کے مطابق حکومت پنجاب نے انسدادسموگ اقدامات کے تحت نومبر سے 31 دسمبر تک بھٹے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہیریلیف کمشنر پنجاب نے محکمہ ماحولیات سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احکامات جاری کر دیئے، مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں تمام بھٹہ خشت جو کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی پر ابھی تک منتقل نہیں کیے گئے، اُنہیں 7 نومبر 2020ء سے بند کر دیا جائے تاکہ فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے جبکہ موسم کی تبدیلی کیساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے سموگ کو آفت قرار دیا جا چکا ہے اور دھواں چھوڑنے والی ملوں، فیکٹریوں، گاڑیوں سمیت دیگر تمام ذرائع کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ محکمہ ماحولیات کو صوبہ بھر میں بھٹہ خشت کو جدید ٹیکنالوجی زگ زیگ پر منتقل کروانے کے لیے 31 دسمبر 2020ء تک کی مہلت دی گئی ہے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ مہنگائی کے دور میں تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں پہلے ہی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور اگر بھٹہ خشت کو بند کر دیا گیا تو اینٹوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے سے تعمیراتی کام ٹھپ ہو جائیں گے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ضلعی صدر انجمن مالکان بھٹہ خشت ایسوسی ایشن چوہدری عبدالرزاق باجوہ،سر پرست اعلیٰ چوہدری اشرف گجر،چیئر مین سپریم کونسل حاجی الطاف نے کہا ہے کہ حکومت کا7 نومبر سے 31 دسمبر تک بھٹے بند کرنے کا فیصلہ یکطرفہ اور نادانی پر مبنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکام کس طرح اینٹوں کی صنعت سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر منسلک ہزاروں مزدورں سے 2 وقت کی روٹی چھین سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جھنگ روڈ ڈیرہ چوہدری علی اصغر بھولا گجر شہید پر مختلف سیکٹرز کے صدور،جنرل سیکر ٹریز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھٹہ مالکان کے مرکزی صدر شعیب خان نیازی نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ اگر سموگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو ہم رضاکارانہ طور پر بھٹے بند کردیں گے۔لیکن حکومت نے یک طرفہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئی7 نومبر سے بھٹے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔بھٹوں کو زی زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے کے لیے 2 سے 3 سال درکار ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ بندش کے سبب بھٹہ مالکان کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے اورملازمین کو 2 ماہ سے زائد عرصے کے لیے اخراجات کی فراہمی کے حوالے سے حکومت نے کوئی منصوبہ تشکیل نہیں دیا۔حاجی اسلام، حاجی غلام مصطفی،میاں فرمان،میاں یوسف،رانا بلو،رانا آصف،رانا رئوف،واجد گورایہ،اسلم چدھڑ،حافظ محمد اکرم،رانا رشید ،رانا حامد خاں اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More